بہائی فرقے کا تعارف اور ان کے عقائد ونظریات
بہائی فرقہ باطنی فرقہ کی ایک شاخ ہے، جو دین اسلام سے خارج ہے. انیسوی صدی عیسوی کے شروع میں ایران کے علی محمد نے، اور ایک قول کے مطابق محمد علی شیرازی نامی شخص نے اس کی بنیاد ڈالی تھی. اس شخص کا پہلے شیعہ اثنا عشری فرقہ سے تعلق تھا. لیکن بعد میں اس سے الگ ہو کر ایک نئے دین و مذہب کی داغ و بیل ڈالی، اور مہدی منتظر ہونے کا دعویٰ کیا.
پھر کچھ عرصہ کے بعد اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالی اس کے اندر حلول کر گئے ہیں. اور وہ الہ الناس ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ و عز صفاتہ کی ذات پاک ان جنونی باتوں سے منزہ اور بالاتر ہے. پھر اس شخص نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے دن حساب و کتاب، جنت و جہنم، اور دار آخرت کی دوسری چیزوں کا انکار کیا، اور عبادت اور ریاضت کا طور و طریقہ ہندؤں جیسا اختیار کر لیا۔
پھر وحدت ادیان کے نظریہ کا داعی و مبلغ ہو گیا، اور یہ کہنے لگا کہ یہودیت اور عیسائیت اور دین اسلام میں کوئی فرق اور اختلاف نہیں ہے. بلکہ یہ تینوں مذاہب ایک ہیں۔
کچھ عرصہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و سالت کا اور بہت سے اسلامی احکام کا بھی منکر ہو گیا۔
اس کے مرنے کے بعد اس کا بہاء نامی وزیر اس کا جانشین ہوا جس نے اس کے دین و مذہب کی بڑی سرگرمی سے دعوت و تبلیغ کی اور جاہلوں کی ایک بڑی تعداد کو گمراہ کر کے اس کا پیروکار بنایا، اور بعد میں یہ فرقہ اسی کی طرف منسوب ہو کر بہائیت کے نام سے مشہور و معروف ہوا۔
دین اسلام سے خارج فرقوں میں ایک بڑا فرقہ وہ بھی ہے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے اور حج وغیرہ کرتا ہے، لیکن بایں ہمہ یہ عقائد باطلہ رکھتا ہے کہ
☆ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے منصب نبوت، اور مقام رسالت کو پہنچانے میں خیانت کی ہے، اور انہوں نے رسالت کو بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا ہے۔
اس فرقہ کے بعض افراد کا کہنا ہے کہ: علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی اللہ ہے. چنانچہ وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور ان کی اولاد و احفاد، ان کی بیوی فاطمہ اور انہ کی ماں خدیجہ- رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین- کی تعظیم و تکریم میں غلو رتے ہیں. بلکہ اللہ کے ساتھ انہیں بھی معبود قرار دے رکھا ہے.
جنہیں یہ پکارتے ہیں، اور ساتھ ہی ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں، کہ یہ لوگ لغزشوں سے معصوم ہیں، اور اللہ کے نزدیک ان کا مقام و مرتبہ رسولوں کے مرتبہ سے بڑھ کر ہے۔
☆ وہ قرآن کریم جو آج امت اسلامیہ کے پاس ہے، وہ حقیقی قرآن نہیں بلکہ اس میں کمی و بیشی کر دی گئی ہے، اس لئے انہوں نے اپنا قرآن اس سے مختلف سمجھ رکھا ہے جس میں ان کی طرف سے کچھ مخصوص آیتیں اور سورتیں بھی ہیں۔
☆ انبیاء کرام کے بعد سب سے جلیل القدر شخصیات خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، جو تمام مسلمانوں میں افضل ہیں. یہ ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں، اور انہیں طرح طرح کی گالیاں دیتے ہیں۔
☆ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگا کر گالیاں دیتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے خوشی، اور پریشانی کے وقت فریاد کرتے اور مدد طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے علاوہ ان ہی سے دعاد استغفار کرتے ہیں۔
☆ ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ پر کذب و افترا سے کام لیا ہے، اور اس کے کلام پاک کی تحریف و تبدیلی کے مرتکب ہوئے ہیں، حالانکہ اللہ تعالی جل شانہ ان تمام خرافات سے پاک و منزہ ہے۔
مفید مشورہ:
مذکورہ بالا فرقے کافر فرقوں میں سے چند ہیں، جو اسلام کے دعویدار تو ہیں لیکن دراصل وہ اسلام کو نیست و نابود کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس لئے ایک صحیح العقیدہ اور مومن صادق کو یہ یقین کر لینا چاہیئے، کہ اسلام صرف دعوے کا نام نہیں ہے، بلکہ اسلام حقیقی، قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی صحیح معرفت اور اس کے مطابق عمل اور اطاعت و فرمانبرداری کا نام ہے۔
اس لئے قرآن کریم میں تدبر اور غور فکر کرنا چاہئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اسلامی شریعت کا علم حاصل کرنا چاہیئے. اور پھر اس کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونا چاہئے، اس کے بعد بندہ نور ہدایت سے بہرہ ور اور صراط مستقیم پر گامزن ہو سکتا ہے. جو اسے سعادت دارین سے ہمکنار اور رب العالمین کی جنات النعیم تک پہنچا سکتا ہے۔
