اسلام کو نقصان پہنچانے والے لوگ
یہ لوگ دو قسم کے ہیں:
پہلی قسم: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلامی برادری میں شامل ہونے کے دعوے دار ہیں، لیکن اپنے اقوال و اعمال سے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اور ایسی بد اعمالیوں کے شکار ہیں جن کا اسلام سے ادنیٰ بھی رشتہ نہیں، صحیح معنوں میں یہ ہرگز اسلام کے نمائندے نہیں ہیں اور نہ اسلام کی طرف ان کا انتساب درست ہے.
اور ان کی بھی چند قسمیں ہیں :
فساد عقیدہ کے شکار:
وہ لوگ جو عقیدہ میں فساد کی وجہ سے قبروں کا طواف کرتے ہیں اور صاحب قبر سے حاجت روائی کی درخواست کرتے ہیں اور ان کے نفع و نقصان پہنچانے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔
بد اعمالی کے شکار:
وہ لوگ جو بد اعمالیوں میں اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ فرائض اور واجبات کو چھوڑتے ہیں اور محرمات اور ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہوئے شراب نوشی، زناکاری وغیرہ کرتے ہیں، اور دشمنان اسلام سے محبت و قربت رکھتے ہیں اور ان سے مشابہت اختیار کرتے اور ان کی تقلید کرتے ہیں۔
اعمال میں کو تاہی کے شکار:
وہ لوگ جن کے عقائد کمزور ہیں اور اسلامی تعلیمات پر وہ پوری طرح عمل پیرا نہیں ہیں اور بعض واجبات کے بجا آوری میں کوتاہی کرتے ہیں، لیکن مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرتے، اسی طرح بعض ایسے محرمات کے مرتکب ہو جاتے ہیں جو کفر و شرک تک نہیں پہنچاتے، اور بعض بری عادتوں کے شکار ہوتے ہیں جنہیں اسلام نے حرام قرار دیا ہے، مثلاً دھوکہ دہی، وعدہ خلافی ، حقد و حسد وغیرہ تو ایسا شخص بھی اسلام کو ارادی اور غیرارادی طور پر نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ اسلامی تعلیمات سے ناواقف غیر مسلم یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ان برائیوں کی اجازت دیتا ہے.
دوسری قسم :
وہ لوگ ہیں جو اسلام سے کسی طرح کا تعلق اور رشتہ نہیں رکھتے بلکہ اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور اس سے غیر معمولی حقد و حسد رکھتے ہیں اور اس کو نقصان پہنچانے کے ہمہ وقت درپے ہیں۔
چنانچہ یہ مستشرقین اور عیسائی مشنریاں ا،ور یہودی تنظیمیں، اور اسی قسم کے دوسرے لوگ ہیں۔ جو اسلام کے تیزی سے پھیلنے اور اس کی جامعیت اور دین فطرت ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ غیر معمولی حقد و حسد رکھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "ہر بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں" اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہر بچہ دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے جس پر فطری طور پر ایمان رکھتا ہے، اگر اسے فطرت سلیمہ پر چھوڑ دیا جائے تو اسلام کو بغیر تر ود قبول کرے گا لیکن غلط تربیت اور برے ماحول کی وجہ سے وہ یہودیت یا نصرانیت یا مجوسیت یا اور کوئی باطل دین قبول کر لیتا ہے۔
چنانچه غیر مسلم شخص ذہنی انتشارواضطراب میں رہتا ہے اور اپنے آبائی دین و مذہب سے غیر مطمئن رہتا ہے، کیونکہ وہ غیر فطری دین کو اپنائے ہوئے ہے اور فطرت سلیمہ سے ہٹ کر زندگی گزار رہا ہے، بخلاف مسلمان کے کہ وہ اپنے دین و مذہب سے راضی ہو کر مسرورو مطمئن زندگی گزارتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے مشروع کردہ دین حق کو اپنائے ہوئے ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسی لیے ہر یہودی اور عیسائی بلکہ کوئی بھی باطل دین اختیار کرنے والے ہر شخص سے ہم کہتے ہیں کہ تمہارے بچے تو فطرت اسلام پر پیدا ہوتے ہیں مگر کفر پر غلط تربیت کر کے تم انہیں اسلام سے نکال کر باطل دین پر لگا دیتے ہو۔
اسی حقد و حسد کی وجہ سے دشمنان اسلام نے اسلام کے خلاف افترا پر درازی اور پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، کبھی تو وہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور کبھی آپ پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور کبھی اسلامی عقائد و حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں، تاکہ لوگ اسلام سے بدظن ہوں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تمام جسمانی و اخلاقی عیوب سے پاک و صاف ہے اور اسلام کا دامن ہر طرح کی داغ و دھبے سے صاف ستھرا ہے۔ لیکن بایں ہمہ اللہ تعالیٰ ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیتا ہے کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرتے ہیں، اور حق کی شان سربلندی ہے، مغلوب ہونا نہیں۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
(یرِيدُونَ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ، وَلَوْ كَرَة الْكَفِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ التي يُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ)
(الصف : (۹۸)
"یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا، گو کافروں کو (کیا ہی گراں گذرے ، وہ (اللہ ) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کر دے گو مشرکوں کو (کیساہی گراں گذرے۔"
اسلام کے مصادر:
جب کوئی شخص دین اسلام کی حقیقت کی صحیح معنوں میں معرفت حاصل کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اسلام کے سب سے اول سرچشمہ" قرآن کریم" کا مطالعہ کرے، پھر"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ" کو جو "صحیح بخاری"، "صحیح مسلم"، "موطا امام مالک"، "مسند امام احمد" ، "سنن ابو داؤد سنن ترمذی"، "سنن نسائی"، "سنن ابن ماجہ" اور "سنن دارمی" وغیرہ میں مروی ہیں پڑھے۔
اسی طرح سیرت "ابن ہشام" ، "تفسیر ابن کثیر"، نیزامام ابن قیم کی کتاب "زاد المعاد فی ہدی خیر العباد" کا مطالعہ کرے اس کے علاوہ ائمہ دعوت و توحید مثلا "شیخ الاسلام ابن تیمیہ " اور امام "محمد بن عبد الوہاب" کی کتابیں پڑھے ، وہی امام محمد بن عبد الوہاب جن سے ذریعہ سے اور امیر الموحدین محمد بن سعود کے تعاون سے بارہویں صدی ہجری میں اللہ تعالٰی نے پورے جزیرہ عرب میں اور دیگر علاقوں میں بھی توحید میں پھیلائی اور شرک و بدعت کا قلع قمع کیا اور الحمد اللہ آج تک اس کے اچھے اثرات پائے جاتے ہیں۔
مستشرقین اور بہت کی نام نہاد اسلامی جماعتوں کی وہ کتابیں جو اسلامی تعلیمات کی مخالفت کرتی ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین یا سلف صالحین کو سب و شتم کرتی ہیں یا ائمہ دعوت و توحید مثالی علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم، اور امام محمد بن عبد الوہاب، کے خلاف افترا پر درازی کرتی ہیں اور ان کی شان میں مختلف شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں، تو ان کتابوں سے پر ہیز کرنا چاہیے کیونکہ وہ گمراہی کی طرف لے جاتی ہیں۔
