ads

اللہ خالق عظیم کی معرفت

اللہ خالق عظیم کی معرفت

ہر عقل و ہوش رکھنے والے کے لیے یہ بات جاننا انتہائی ضروری ہے کہ جس ذات پاک نے اسے عدم سے وجود بخشا اور طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا وہی اللہ ہے جو ساری کائنات کا رب ہے۔

اللہ تعالی پر ایمان رکھنے والے عظمند لوگوں
نے اپنی آنکھوں سے اسے نہیں دیکھا ہے لیکن ایسے دلائل سے واقفیت رکھتے ہیں جو اس کے وجود پر نیز اس کے خالق کائنات ہونے اور نظام حیات چلانے پر شاہد ہیں اور وہ دلائل یہ ہیں:

(١) کائنات'انسان اور زندگی' یہ تینوں چیزیں حادث ہیں جن کی ابتدا اور انتہا ہے اور اپنے وجود کے لیے دو سرے کے محتاج ہیں۔

اور جو حادث اور محتاج ہو وہ مخلوقات کی قبیل سے ہوئی اور چیز مخلوق ہوئی تو یقینی طور پر اس کے خالق کا ہونا ضروری ہے اور یہ عظیم خالق اللہ وحدہ کی ذات پاک ہے جس نے خود اپنے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ وہ ساری کائنات کا خالق اور اس کے نظام کو چلانے والا ہے۔

اور اس کا علم ہم کو ان آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہوا ہے جن کو اللہ تعالی نے اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور انہوں نے اس کی تبلیغ کی اور اس کے مضامین کی تعلیم دی اور اللہ تعالی پر ایمان اور اس کی عبادت کی دعوت دی۔ چنانچہ

خود ارشاد باری تعالی ہے:

"   رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي ستة أيام ثم اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ لم حبيبنا والشمس والقمر والنُّجُومَ مُسَخَّرَاتِ بأنه الالة الخلق والأمن تبارك الله رَبُّ الْعَالَمِينَ )"

(الاعراف: ۵۴) 

''بینک تمہارا پروردگار ہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوچھ دنوں میں پیدا کر دیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا' ڈھانپ لیتا ہے رات سے دن کو وہ جلدی سے اسے آلیتی ہے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو (اس نے پیدا کیا) سب اس کے حکم کے تابع ہیں' یاد رکھو اسی کے لیے خاص ہے آفرینش بھی اور حکومت بھی ، برکت سے بھرا ہوا ہے سارے جہاں کا پروردگار۔"

آیت کریمہ کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی ساری مخلوقات کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہی ان کا رب ہے جس نے انہیں اور آسمانوں اور زمین کو

بھی چھ دنوں میں پیدا کیا۔

اور یہ خبر دے رہا ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے - اورعرش سارے آسمانوں کے اوپر ہے جو سب سے زیادہ اور وسیع ترین مخلوق ہے اور اللہ تعالی اس عرش سیم پر مستوی ہے اور اپنے غم اور ارادے سے ساری مخلوقات کے ساتھ ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔

اللہ تعالی نے یہ بھی بتایا کہ رات دن کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی سے اسے آلیتی ہے، اور اس نے سورج اور چاند اور ستاروں کو پیدا کیا اور اسی کی ہدایت کے مطابق یہ سب اپنے اپنے دائرے میں چکر لگاتے ہیں۔

مزید یہ بتایا کہ وہی تن تنها ساری کائنات کا خالق ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے، وہ ایسی ذات پاک ہے جو اپنی ذات و صفات میں کامل ہے جوہمیشہ بے حساب خیر و بھلائی سے نوازتی ہے اور وہ سارے جہاں کی پرورش کرنے والی ہے جس نے سب کو عدم سے وجود بخشا اور طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

(وَمِنْ ءَايَتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَر لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ) (فصلت : ۲۷)

"اور اس کی نشانیوں میں رات ہے اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے (بس) تم لوگ نہ سورج کو پوجو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ ہی کو پوجو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر واقعی اس کی بندگی کرنے والے ہو"

آیت کریمہ کی اجمالی تشریح :

(١) اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں ان علامتوں کی نشاندہی فرما رہا ہے جو اس کی ذات پاک پر دلالت کرتی ہیں، جیسے رات و دن اور سورج و چاند اور سورج و چاند کی عبادت سے منع فرما رہا ہے کیونکہ یہ دونوں تمام دوسری مخلوقات جیسی مخلوق ہیں اور کوئی مخلوق عبادت کے لائق نہیں اور سجدہ بھی عبادت کی ایک قسم ہے۔ 

اور اللہ تعالی ساے لوگوں کو اپنی ذات واحد کی عبادت کا حکم فرما رہا ہے کیونکہ در حقیقت وہی ساری کائنات کا خالق اور نظام چلانے والا اور ساری عبادتوں کا سزاوار ہے۔

(۲) اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے وجود کی دلیل مرد اور عورت کا پیدا فرمانا ہے ، چنانچہ مذکر اور مونث کا وجود بھی بذات خود اللہ خالق کی ایک دلیل ہے۔

(۳) اسی طرح اللہ تعالی کے وجود کی دلیل انسانوں کی زبانوں اور شکل و صورت کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا ہے، چنانچہ دنیا میں ایسے دو شخص نہیں ملیں گے جن کی آواز یا شکل و صورت پوری طرح یکساں ہو بلکہ یقینی طور پر کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہو گا۔

(۴) اسی طرح انسانوں کا اپنی اپنی قسمتوں میں مختلف ہونا کوئی مالدار ہے اور دوسرا فقیر ہے اور یہ صاحب منصب ہے اور وہ ملازم ہے حالانکہ ان میں سب ہی صاحب عقل و فہم ہیں اور مالداری، بلند مرتبہ اور حسین و جمیل بیوی کے حریص ہیں، لیکن بایں ہمہ ہر شخص دوسرے سے مال و منصب میں مختلف ہے کیونکہ کوئی شخص محض اپنی استعداد اور محنت و کوشش سے دنیوی سعادت و مسرت اتنی ہی حاصل کر سکتا ہے جتنا اللہ تعالی نے اس کی قسمت میں لکھا ہے۔

اور اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم حکمت مضمر ہے تاکہ لوگوں کا ایک دو سرے کے ذریعہ امتحان لے اور ایک کو دوسرے کے لیے باہمی طور پر مفید بنائے اور اس طرح کسی کا نقصان نہ ہو۔

اور جس کو ان مخصوص سعادتوں اور منصب سے نہیں نوازا ہے تو اس کو دار آخرت جنت میں مزید نعمتوں سے نوازے گا بشرطیکہ اس کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو، اسی طرح اللہ تعالیٰ فقیر کو خود دنیا میں ایسا سکون و اطمینان قلب نصیب فرماتا ہے جس کے لیے بہت سے مالدار لوگ تمنا کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی عین حکمت اور کمال انصاف کی بات ہے۔

(۵) اللہ تعالیٰ کے وجود کی ایک عظیم علامت نیند اور بچے خواب ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالٰی سونے والے کو خوشخبری یا ڈراوے کے طورپر غیب کی بعض باتوں سے آگاہ کرتا ہے۔

(٦) اسی طرح ذات باری کی ایک دلیل "روح" ہے جس کی حقیقت سوائے اللہ واحد کے کوئی نہیں جانتا۔

(٧) مزید اللہ خالق و مالک کے وجود کی ایک دلیل خود حضرت انسان ہے جس کو اللہ تعالی نے مختلف حواس، اعصابی نظام، عقل اور ہاضمہ وغیرہ کے نظام سے نوازا ہے۔

اہم موضوع

روزه کا بیان

حقوق العباد

اسلامی واقعات (قسط نمبر آٹھ )