عالم اسلام میں کچھ ایسے باطل فرقے نمودار ہوئے ہیں جو اپنے باطل عقائد اور گمراہ کن نظریات کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں. یہ فرقے اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب تو کرتے ہیں، لیکن در حقیقت یہ اسلام سے خارج ہیں، کیونکہ ان کے عقائد کفریہ ہیں۔ ان میں سے بعض فرقے یہ ہیں :
باطنی فرقه:
یہ فرقہ حلول اور تاریخ ارواح کا قائل ہے. نیز یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نصوص شرعیہ کا ایک ظاہری اور دوسرا باطنی معنی ہوتا ہے. ظاہری معنی وہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے واضح فرما دیا ہے، اور سارے مسلمانوں نے اس پر اجماع کر لیا ہے، اور باطنی معنی اس کے برعکس ہے جس کی تحدید و تعیین اپنی خواہشات کے مطابق خود کرتے ہیں.
فرقہ باطنیہ کی ابتدا اس طور پر ہوئی کہ جب اسلامی دعوت اپنے عروج پر پہنچی اور اسلام ایک طاقت بن کر ابھرا. تو یہودیوں اور مجوسیوں اور بلاد فارس کے فلاسفہ کی ایک جماعت نے اسلام کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں میں نفاق و شقاق پیدا کر کے ان کو پاش پاش کرنے کی غرض سے ایک مذہب کا سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اس کے ذریعہ قرآن کریم کے مفہوم و معانی میں تحریف و تبدیلی کی جائے، اور اس طرح مسلمان باہمی طور پر اختلافات کا شکار ہو جائیں. چنانچہ اہل بیت کے ولاء اور ان سے محبت کے در پردہ انہوں نے ایک نئے مذہب کی داغ بیل ڈالی، اور اپنے کو ان کا وفادار اور ان کے حقوق کا علمبردار باور کرایا، تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کریں اور اس طرح سے جاہل عوام کی ایک بھاری تعداد ان کے ساتھ ہو گئی جنہیں انہوں نے گمراہ کر کے چھوڑا۔
باطنی فرقہ کے متعدد نام ہیں. اور یہ کئی فرقوں میں بٹ گئے ہیں، جو ہندوستان، شام، ایران، عراق اور بہت سے دوسرے ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جس کی تفصیل متقدمین میں سے علامہ شہرستانی نے اپنی مشہور کتاب "الملل و النحل" میں بیان کی ہے، اور کچھ بعد کے مورخین نے بھی "قادیانیت" اور "بہائیت" کو اسی فرقہ کی قسم قرار دیا ہے، مزید تفصیلات کے لیے استاذ محمد سعید کیلانی کی کتاب "ذیل الملل و النحل" اور شیخ عبد القادر شبیہ الحمد کی کتاب "الادیان و الفرق والمذاہب المعاصرة " کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔
قادیانی فرقہ:
ان گمراہ اور باطل فرقوں میں "قادیانیت" بھی ہے جو غلام احمد قادیانی کی طرف منسوب ہے. جس نے نبوت کا دعویٰ کیا، اور ایک فکری انار کیطرف بر صغیر میں دعوت دی. غلام احمد قادیانی کو انگریزوں نے پوری طرح اپنے اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کیا. چنانچہ وہ اور اس کے متبعین برطانیہ کے پورے دور استعمار میں اس کے آلہ کار بنے رہے، اور وہ انہیں بڑی فراخ دلی سے انعامات سے نوازتا رہا، اور اپنے جود و کرم کے دروازے بالکل کھول دیئے تھے۔
چنانچہ جاہل عوام کی ایک بڑی تعداد اس کی دعوت پر لبیک کہہ کر ایمان لے آئی۔ قادیانی بظاہر اسلام کا دعوی کرتے تھے لیکن وہ اسلام کو نیست و نابود کرنے کے درپے تھے اور اپنی طاقت پر لوگوں کو اسلام سے نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔
غلام احمد قادیانی نے "براہین احمدیہ" کے نام سے ایک کتاب لکھی، جس میں علانیہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا، اور اسلامی نصوص کی تحریف و تبدیلی کی تھی. چنانچہ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ "جہاد" منسوخ ہو چکا ہے، اور تمام مسلمانوں کو انگریزوں کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہیے، اور ان کا وفادار رہنا چاہیئے۔
ان مدعی کذاب و دجال نے "تریاق القلوب" کے نام سے ایک کتاب لکھی، جو اسی طرح کی گمراہیوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ کذاب و دجال بے شمار لوگوں کو گمراہ و برباد کر کے ۱۹۰۸ء میں مرا اپنا خلیفہ "علیم نورالدین" نامی شخص کو بنا کر چھوڑ گیا جو اس کی د عوت باطلہ کو پھیلائے۔
