ads

اِسلامی واقعات (قسط نمبرچودہ)

اِسلامی واقعات (قسط نمبرچودہ)

اِسلامی واقعات (قسط نمبرچودہ)

صحابہ رضی اللہ عنہم کی مابین محبت کا عجیب واقعہ

حضرت ابوصالح رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت ضراربن بن ضمرۃ الکنانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا! میرے سامنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعریف بیان کرد... اس نے کہا اے امیر المؤمنین کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے حضرت امیر معاویہ نے فرمایا... میں تجھے معاف رکھوں گا…اس نے کہا تب تو تعریف ضروری ہے. پس بے شک حضرت علی کرم اللہ وجہہ اعلی درجہ کی صلاحیتوں والے تھے، مضبوط اعصاب والے تھے، بات دوٹوک کرتے تھے،

اور فیصلہ عدل کا کرتے تھے، ان سے علم و حکمت پھوٹتے تھے، آپ دنیا اور اس کی فریب بازیوں سے دور رہتے تھے، رات سے اور اس کی تاریکی سے مانوس تھے، اللہ کی قسم آپ بہت زیادہ عبرت پذیر اور طویل فکر والے تھے، اپنی ہتھیلی کو پلٹتے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوتے، آپ کو وہ لباس پسند ہوتا تھا جو ہلکا ہو اور وہ کھنا پسند تھا جو بالکل سادہ ہوتا، اللہ کی قسم وہ ہم میں کے کسی ایک فرد کی طرح تھے، جب ہم آپ کے پاس جاتے تو ہمیں اپنے قریب کرتے، اور جب ہم آپ سے مانگتے تو ہمیں عطا فر ماتے، اور ہمارے ساتھ ان کے اس قرب کے باوجود ان کی ہیت کی وجہ سے کوئی ان سے بات نہ کر سکتا تھا، دینداروں کا احترام کرتے مسکینوں سے محبت کرتے تھے، اگر آپ مسکراتے تو موتیوں کی لڑی بکھیرتے تھے، باطل میں آپ سے کوئی لالچ نہیں رکھتا تھا، اور کمزور آپ کے عدل سے مایوس نہیں ہوتا تھا، میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے آپ کو بعض دفعہ کھڑے ہوئے دیکھا، حتی کہ رات کی تاریکی چھا گئی، اور ستارے ڈوب گئے، آپ اپنے محراب میں جھک کر اپنی داڑھی پکڑ کھڑے ہیں، آپ تندرست کی طرح کروٹیں بدلتے اور غمگین کی طرح روتے، پس گویا کہ میں ابھی سن رہا ہوں کہ آپ کہہ رہے ہیں، اے ہمارے رب! اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کر رہے ہیں، پھر دنیا سے کہہ رہے ہیں تو نے مجھے دھو کہ میں ڈالا اور مجھ پر چڑھائی کی... دور رہ ... دور رہ کسی اور کو دھوکہ دے، میں نے تجھے قطعی طلاق دی ہے. تیری عمر بہت تھوڑی ہے، اور تیری مجلس حقیر ہے، اور تیرا نقصان بہت تھوڑا ہے. ہائے ہائے سامان سفر کی قلت پر اور سفر کی دوری پر اور راستہ کی وحشت پر.

بس پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ کے آنسو تیزی سے ان کی داڑھی پر بہہ پڑے جنہیں وہ روک نہ سکے، اور انہیں اپنی آستین سے صاف کرنے لگے، اور رونے کی وجہ سے لوگوں کے گلے گھٹنے لگے،

پھر فرمایا! اے ضرار اس پر تیرا احساس کیسا ہے؟ اس نے کہا میرا احساس اس عورت کا سا ہے جس کا اکلوتا بیٹا اس کی اپنی گود میں ذبح کیا گیا ہو۔ اس کے آنسو نہیں تھمتے اور نہ اس کا غم تھتا ہے... پھر ضرار کھڑا ہوا اور چلا گیا.... (۳۱۳ روشن ستارے)

شیطان کا طریقہ واردات

ایک بزرگ نے شیطان سے کہا کہ میاں تم بڑے فساد کراتے ہو. گھر کے گھر برباد کرا دیتے ہو. شیطاننے کہا! مجھے مفت میں بدنام کر رکھا ہے. میں تو کچھ نہیں کرتا، چلو میں تمہیں نمونہ دکھلاؤں، حلوائی کی دکان پر پہنچے، شیطان نے ایک انگلی بھر شیرہ دیوار پر لگایا اس شیرہ پر مکھیاں آبیٹھیں، ان مکھیوں پر چھپکلی آگئی، اتفاق سے دکان پر بلی آگئی وہ چھپکلی پر دوڑی، ایک خریدار کے ساتھ کتا بھی تھاوہ بلی پر جھپٹا، حلوائی نے غصے میں آکر ایک پتھر اس کتے کو دے مارا، اس کتے کے مالک کو جوش آیا اس نے حلوائی کے ایک تلوار ماری، بازار والوں نے جمع ہو کر اس کے مالک کو قتل کر دیا، فوج کو خبر ہوگئی اس نے بازار والوں کا قتل عام شروع کر دیا،

شیطان نے کہا! دیکھا انصاف سے کہئے میرا کیا قصور ہے؟میں نے تو ایک انگلی بھر شیرہ دیوار پر لگایا تھا اور شیرہ لگانا کوئی جرم نہیں اور اصل میں تو ایک انگلی شیرہ ہی تھا جس کا طول یہاں تک کھینچا..

حضرت حافظ غلام حبیب رحمہ اللہ

ایک مرتبہ اجتماع کے موقع پر جبکہ آپ دھوپ میں کرسی پر تشریف فرماتھے، ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہو کر قدم بوسی کرنے لگا۔ حضرت نے فورا پاؤں کو جھٹک کر اوپر اٹھایا اور فرمایا اللہ کا بندہ! تو یہ کیا کر رہا ہے لوگ اوپر سے ملتے ہیں اور تو نیچے سے مل رہا ہے. پھر وہ آدمی حضرت سے مصافحہ کرنے لگا. ماشاء اللہ یہ حضرت کی سادگی تھی۔ ہم حضرت سے مصافحہ کرتے اگر پورے ہاتھ سے مصافحہ نہ کرتے تو حضرت فورا ہاتھ پکڑ کر مکمل مصافحہ فرماتے آپ کے ہاں تکلفات بالکل نہ تھے۔

خانیوال اجتماع کے موقع پر حضرت وضوفر مارہے تھے، وضو کے بعد اٹھے تو ایک شخص آیا اور آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دینے لگا. حضرت نے فرمایا ہاں اگر کوئی سنت کے مطابق عمل کرتا ہے تو ہمارا دل خوش ہوتا ہے. دل سے دعایں نکلتی ہیں اور اگر کوئی خلاف سنّت کام کرتا ہے تو ہم پریشان ہو جاتے.

حضرت سے جن حضرات کا تعلق ہو جاتا وہ عام آدمی ہوتا یا خاص، حضرت اپنی اولاد سے زیادہ ان کا خیال رکھتے، اور بغیر تکلفات کے ہر شخص کو اپنے پاس بٹھاتے. دعا فرماتے اور نصیحت فرماتے..

(ماہنامہ " محاسن اسلام نومبر 2008ء)