ads

عبادت کی قسمیں

عبادت کی قسمیں

عبادت کی بہت سی قسمیں ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

دعا:

اپنی ان ضروریات کو طلب کرنا جن کو پورا کرنے کی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی طاقت و قدرت نہیں رکھتا، جیسے بارش برسانا، مریض کو شفا عطا کرنا، مصیبتوں کو ٹالنا اور دور کرنا جس کو ٹالنے کی کوئی انسان طاقت نہیں رکھتا، اور جیسے جنت کا سوال کرنا، جنم سے بناہ طلب کرنا، اولاد مانگنا، رزق طلب کرنا، چین و سکون چاہنا، اس کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور سے نہیں طلب کی جائیں، اور جس نے کسی مخلوق سے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ان میں سے کسی چیز کا طلب گار ہوا اس نے اس کی عبادت کی حالانکہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہے کہ صرف اللہ سے سوال کریں اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ دعا بھی عبادت ہے اور جس نے کسی غیر اللہ کو پکارا وہ دوزخی ہو گا، چنانچہ ارشاد ہے :

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَم داخرين (المومن : (۲۰)

"اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا بے شک جو لوگ میری عبادت سے از راہ تکبر اعراض کرتے ہیں عنقریب جنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔"

اور دوسری آیت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ جن کو پکارا جاتا ہے وہ کسی کے لیے نفع و نقصان کے مالک نہیں اگر چہ وہ انبیاءاور اولیاء ہوں۔

(قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ، فَلَا يَمْلِكُونَ كَشَفَ المر عَنكُمْ وَلَا تمويلا )

(الاسراء : (۵۶)

" آپ کہہ دیجئے تم جن کو اللہ کے سوا معبود قرار دے رہے ہو ذرا ان کو پکارو تو سہمی سووہ نہ تم سے تکلیف دور کر سکتے ہیں اور نہ (اسے) بدل سکتے ہیں۔ "

مزید ارشاد ہے :

وَأَنَّ الْمَسَجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (الجن : (۱۸)

" اور جتنی مسجدیں ہیں (سب) اللہ کا حق ہیں سو اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔ "

ذبح کرنا، نذر مانا اور نیاز پیش کرنا:

کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے قربانی کرے یا نذر و نیاز پیش کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، مثلا کسی قبر یا جنات کی رضا و خوشنودی کے لیے ذبح کیا تو اس نے غیر اللہ کی عبادت کی اور اللہ تعالی کی لعنت کا مستحق ہوا اللہ تعالی کا فرمان ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَولُ المُسْلِمِينَ (الانعام :)

" آپ کہہ دیجئے میری نماز اور میری (ساری) عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت (سب) جہانوں کے پروردگار اللہ ہی کے لیے ہیں کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھے اس کا حکم ملا ہے اور میں مسلموں میں سب سے پہلا ہوں۔ "

امام مسلم کی روایت کردہ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

" جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو "

جب کسی شخص نے یہ کہا کہ جب میرا فلاں کام ہو جائے گا تو میں فلاں کے لیے بطور نذر صدقہ کروں گا یا کچھ اور کروں گا تو یہ نذر شرک ہو جائے گی کیونکہ یہ نذر مخلوق کے لیے کی گئی ہے اور نذر عبادت ہے اس لئے یہ کسی مخلوق کے لئے جائز نہیں بلکہ صرف اللہ تعالی کے لئے ہونی چاہیئے۔

مشروع نذر یہ ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اگر فلاں کام ہو جائے گا تو میں اللہ تعالٰی کے لیے صدقہ کروں گا یا کوئی اور عبادت کروں گا تو یہ نذر جائز ہے۔

استغاثہ، استعانت اور استعاذہ

"استغاثہ" کا مطلب ہے "فریاد کرنا"، استعانت کا مطلب ہے "مدد طلب کرنا "، اور "استعاذہ" کا مطلب ہے  "پناہ طلب کرنا".

الہذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہ فریاد کی جائے اور نہ مدد طلب کی جائے اور نہ پناہ طلب کی جائے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) (الفاتحه : ۴)

"ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔"

مزید ارشاد ہے:

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ)

(الفلق : (۲،۱)

"آپ کہہ دیجئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں، تمام مخلوقات کے شر سے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

" مجھ سے فریاد نہیں کی جاتی بلکہ اللہ تعالی سے فریاد طلب کی جاتی ہے"۔ حدیث صحیح ہے اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔"

توکل ، رجاء اور خشیت

"توکل" کے معنی یہ ہیں کہ انسان سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی پر توکل و بھروسہ نہ کرے۔ "رجاء" یعنی امید کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی کے سوا کسی سے امید نہ رکھے۔ "خشیت" کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے خوف و خشیت نہ رکھے۔

لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سے اسلام کے دعویدار لوگ اللہ تعالی کی ذات و صفات میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ، چنانچہ ایسے بہت سے لوگ زندہ لوگوں سے اور قبر والوں سے بھی مرادیں مانگتے ہیں، کیا طر الله قبروں کا طواف کرتے ہیں اور ان سے مراد پوری کرنے کی درخواست اعلان کردیں ۔ کرتے ہیں، یقینا یہ اعمال غیر اللہ کی عبادت ہیں اور ان کا مرتکب اگر پی آئی مسلمان نہیں ہو سکتا اگر چہ وہ مسلمان ہونے کا دعوی کرے، کلمہ پڑھے ہو۔ اور صوم صلاۃ کا پابند ہو اور بیت اللہ کا حج کرے اللہ تعالٰی فرماتا ہے:

(وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَمَنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ) (الزمر : ۶۵)

"اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف بھی اور جو آپ سے قبل گذر چکے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ (اے مخاطب) اگر تو نے شرک کیا تو تیرا عمل سب غارت ہو جائے گا، اور تو خسارہ میں پڑکر رہے گا۔"
مزید ارشاد ہے :

(إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَنَهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ)

(المائده : ۷۲)

"جو کوئی اللہ کے ساتھ (کسی کو) شریک کرے گا سو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ (دوزخ کی) آگ ہے اور (ایسے) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔"

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ یہ اعلان کردیں :

(قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يَسْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْحُوا لِقَاءَ رَبِّهِ، فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَلِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا)

(الكهف:١١٠)

"آپ کہہ دیجئے میں تو بس تمہارے ہی جیسا بشر ہوں، میرے پاس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، سوچو جو کوئی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے، تو اسے چاہیئے کہ نیک کام کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔"

بعض علماء سوء نے ناخواندہ عوام کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے، جو حقیقی توحید سے جو کہ دین اسلام کی بنیاد ہے بے خبر ہیں، اور صرف بعض فروعی مسائل کی معرفت رکھتے ہیں، چنانچہ وہ علماء سوء شفاعت اور وسیلہ کی بحث کے در پردہ شرک کی دعوت دے رہے ہیں، بعض نصوص کی انتہائی رکیک اور باطل تاویلیں اور چند جھوٹی احادیث ان کی دلیل ہیں، یہ اپنے بدعات و شرکیات کو ثابت کرنے کے لیے شیطانی خواب تک پیش کرنے سے باز نہیں آتے ، جن کو انہوں نے غیر اللہ کی عبادت کرنے کے لیے بطور دلیل و ثبوت جمع کر رکھا ہے اور شیطان اور خواہشات کی پیروی اور آباء واجداد کی اندھی تقلید کا وہی طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں جو پہلے کے مشرکین اپنائے ہوئے تھے۔

لہٰذا ہمیں چایے کہ ہم عبادت صرف اور صرف الله ہی کے لیے کریں. توکل ، رجاء، نذر، استغاثہ، صرف الله ہی کے لیے خاص کریں. اسی میں ہماری دنیا اور آخرت میں بھلائی ہے.

الله ہمیں دین اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ. آمین!

متعلقہ موضوعات