ads

اسلام میں مذہبی آزادی

اسلام میں مذہبی آزادی

مذہبی آزادی:

اللہ تعالٰی نے غیر مسلموں کو جو اسلامی نظام کے تحت آجائیں انہیں مذہبی آزادی دے رکھی ہے. انہیں اسلامی عقائد و احکام سے روشناس کرا دیا جائے، اور اسلام کی دعوت دیدی جائے، اس کے بعد جس کا جی چاہے دین اسلام قبول کر کے دینی و دنیاوی سعادت و کامیابی حاصل کرے. اور جو کوئی اپنے آباء و اجداد کے دین پر باقی رہ کر کا قلعہ بد بختی اور عذاب آخرت کا مستحق ہونا چاہے تو اسے بھی پورا اختیار ہے. اور اس طرح سے اس پر حجت تمام ہو گئی. اب اسے اللہ تعالٰی کے سامنے یہ عذر پیش کرنے کا جواز نہیں ہو گا کہ اسے دعوت نہیں پہنچی۔

اس وقت مسلمان اسے سابقہ دین پر چھوڑ دیں گے، اور اس کی جان و مال کی حفاظت کے عوض جزیہ وصول کریں گے. وہ سارے اسلامی قوانین کا پابند ہو گا اور مسلمانوں کے سامنے اپنے کفر اور شرکیہ شعائر کا اظہار نہ کرے گا۔

لیکن کوئی مسلمان اگر دین اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے تو اس کی سزا قتل ہے، اس لیے کہ وہ اس بھیانک جرم کیوجہ سے زندہ رہنے کا حق نہیں رکھتا. ہاں اگر توبہ و استغفار کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہو گیا تو اس کی توبہ قابل قبول ہوگی. اگر کسی نے اسلام سے خارج کرنے والی چیزوں میں سے کسی ایک چیز کا بھی ارتکاب کر لیا تو اس سے تو بہ کرے اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرے.

اسلام سے خارج کرنے والی چیزیں:

اسلام سے خارج کر دینے والی چیزیں کئی ایک ہیں، جن میں سے مشہور ترین یہ ہیں:

اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور عبادت میں دوسروں کو شریک بنانا اگرچہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان کسی کو واسطہ اور سفارشی بنا کر ہی کیوں نہ ہوا جسے وہ پکارے اور تقرب حاصل کرے اور شفاعت کی درخواست کرے، خواہ اس کی الوہیت کا لفظا و معنی اعتراف، معبود اور عبادت کے معنی جانے کی وجہ سے کرے، جیسا کہ دور جاہلیت کے مشرکین کرتے تھے. جنہوں نے اپنے سابقہ صالحین کے نام سے ایسے بت بنا رکھے تھے جن کی شفاعت کی غرض سے عبادت کیا کرتے تھے۔

یا یہ اعتراف نہ کرے کہ وہ واسطہ معبود ہے، اور اس کا یہ فعل عبادت ہے، جیسا کہ آج کے نام نہاد مسلمانوں کا حال ہے، جن کو اگر عقیدہ توحید کی دعوت دی جائے، تو اس کو قبول نہیں کرتے. وہ اس زعم باطل میں ہیں کہ شرک تو صرف بتوں کے سامنے سجدہ کرنے کا نام ہے، یا یہ کہ کوئی بندہ کسی غیر اللہ کے بارے میں یہ کہے کہ یہ میرا معبود ہے۔ ان کا حال یا مثال اس شخص جیسی ہے جو شراب کو دوسرا نام دے کر نوش کرے.

اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

فَاعْبُد الله مُخلِصاً لَّهُ الَّذِينَ أَلَا لِلَّهِ الَّذِينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لقَرْبُونَا إلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُم فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَذِبُ

(الزمر : ۳۲)

"آپ خاص اعتقاد کرکے اللہ ہی کی عبادت کرتے رہیے، یاد رکھو عبارت خاص اللہ ہی کے لیے ہے، اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں، کہ ہم تو ان کی پرستش بس اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں، بیشک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جس بات میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں، بیشک اللہ ایسے کو راہ راست پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو،

ناشکرا ہو۔"

دوسری جگہ ارشاد ہے:

ذَلِكُمُ الله رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ إن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا استجابوا لكم ويوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنتكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ) 

(الفاطر : ۱٤،۱۳) 

"یہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی حکومت ہے، اور جنہیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں گئے، اور اگر سن بھی لیں تو تمہارا کہا نہ کر سکیں گے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کرنے ہی سے منکر ہوں گے اور(الله) خبیر کا سا کوئی نہ بتائے گا۔"

مشرکوں اور دیگر کفار جیسے یہودی، عیسائی، ملحد، مجوسی، اور وہ طاغوتی ہیں، جو اللہ کے قوانین کے علاوہ سے فیصلے اور حکومتیں کرتے ہیں. اور احکام الٰہی کی مخالفت کرتے ہیں. تو جو شخص جاننے کے باوجود انہیں کافر نہ سمجھے وہ خود بھی کافر ہو گیا۔

جس نے شرکیات پر مشتمل جادو ٹوٹا خود کیا، یا کرنے والے کو صحیح کہا وہ کافر شمار ہوگا۔

یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی دوسری شریعت یا نظام اسلامی شریعت سے اکمل وافضل ہے، یا یہ کہ کسی اور کا فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے بہتر ہے، یا غیر الہی قانون سے فیصلہ لینا جائز ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنا یا آپ کی لائی ہوئی باتوں میں سے کسی بات کو مبغوض سمجھتا۔

جانتے ہوئے اللہ کے دین کی کسی بات کا مذاق اڑانا.

اسلام کی فتح و نصرت اور سر بلندی کو ناپسند کرنا، اور اس کی شکست و کمزوری پر مسرت کا اظہار کرنا۔

کفار سے دوستی، اور ان کی تائید، اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرنا تو کفار سے دوستی رکھنے والا انہیں کے زمرہ میں شمار ہوگا۔

یہ اعتقاد رکھنا کہ مجھے شریعت محمدیہ کے حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت ہے، حالانکہ کسی شخص کے لیے کسی بھی مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے تجاوز کرنے کی گنجائش نہیں ہے.

اللہ تعالیٰ کے دین سے اعراض کرنا، چنانچہ جس نے جان بوجھ کر اسلام سے اعراض کیا، یعنی نہ اسے سیکھا اور نہ ہی اس پر عمل کیا وہ کافر ہے.

اسلام کے کسی ایسے حکم کا انکار جس پر سب کا اجماع ہو، اور اس جیسے لوگوں پر وہ حکم مخفی نہ ہو۔ ان نواقض کے دلائل قرآن و سنت میں

بکثرت موجود ہیں۔

درج بالا باتیں بڑی حساس ہیں، یعنی انسان جانے انجانے میں یہ چیزیں اگر کر د ے تو اسکا ایمان خطرے میں پڑجاتا ہے. اسی لیے ان باتوں کا ہر معلوم ہو چاہیۓ، اور ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیۓ.

الله ہم سب کو ان سے بچنے کی توفیق عطا فرماۓ

آمین!