ads

اِسلامی واقعات (قسط نمبر بارہ)

اِسلامی واقعات (قسط نمبر بارہ)

حقوق العباد کے اہتمام کا عجیب واقعہ

حکیم الامت حضرت تھانوی کے ایک مرید تھے... جن کو آپ نے خلافت بھی عطا فرمادی تھی، اور ان کو بیعت اور تلقین کرنے کی اجازت دے دی تھی... ایک مرتبہ وہ سفر کر کے حضرت والا کی خدمت میں تشریف لائے... ان کے ساتھ ان کا بچہ بھی تھا۔ انہوں نے آکر سلام کیا اور ملاقات کی، اور بچے کو بھی ملوایا کہ حضرت یہ میرا بچہ ہے... اس کے لئے دعا فرمادیجئے. حضرت والا نے بچے کے لئے دعافرمائی…

اور پھر ویسے ہی پوچھ لیا کہ اس بچے کی عمر کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت اس کی عمر ۱۳ سال ہے... حضرت پوچھا کہ آپ نے ریل گاڑی کا سفر کیا ہے، تو اس بچے کا آدھا ٹکٹ لیا تھا یا پورا ٹکٹ لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت آدھا ٹکٹ لیا تھا۔ حضرت نے فرمایا: کہ آپ نے آدھا ٹکٹ کیسے لیا جب کہ بارہ سال سے زائد عمر کے بچے کا تو پورا ٹکٹ لگتا ہے. انہوں نے عرض کیا کہ قانون تو یہی ہے کہ بارہ سال کے بعد ٹکٹ پورا لینا چاہئے... اور یہ بچہ اگر چہ۱۳ سال کا ہے لیکن دیکھنے میں ۱۲ سال کا لگتا ہے... اس وجہ سے میں نے آدھا ٹکٹ لے لیا.... حضرت نے فرمایا: اناللہ وانا الیہ راجعون

معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو تصوف اور طریقت کی ہوا بھی نہیں لگی... آپ کو ابھی تک اس بات کا احساس اور ادراک نہیں کہ بچے کو جو سفر آپ نے کرایا.... یہ حرام کرایا... جب قانون یہ ہے کہ ۱۲ سال سے زائد عمر کے بچے کا ٹکٹ پورا لگتا ہے، اور آپ نے آدھا ٹکٹ لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ریلوے کے آدھے ٹکٹ کے پیسے غصب کر لئے، اور آپ نے چوری کرلی…

اور جو شخص چوری اور غصب کرے، ایسا شخص تصوف اور طریقت میں کوئی مقام نہیں رکھ سکتا۔

لہذا آج سے آپ کی خلافت اور اجازت بیعت واپس لی جاتی ہے... چنانچہ اس بات پر ان کی خلافت سلب فرما لی....

حالانکہ اپنے اوراد و وظائف میں، عبادات اور نوافل میں، تہجد اور اشراق میں، ان میں سے ہر چیز میں بالکل اپنے طریقت پر مکمل تھے، لیکن یہ غلطی کی کہ بچے کا ٹکٹ پورا نہیں لیا۔ صرف اس غلطی کی بنا پر خلافت سلب فرمالی... (انمول موتی )

نصرت خداوندی

ابوبکر بن الحاضہ نے اپنے اتالیق ابی طالب سے نقل کیا ہے، کہ وہ ایک رات بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں کچھ دنوں پہلے بہت تنگ دست تھا، اور اسی پریشانی کی حالت میں رات کو اپنے کام میں مشغول تھا، کہ ایک بڑا چوہا نکلا اور اس نے گھر میں دوڑ نا شروع کر دیا پھر دوسرا نکل آیا اور دونوں نے کھیلنا شروع کر دیا.

میرے سامنے ایک طشت تھا میں نے ان میں سے ایک پر اُسے الٹ دیا تو دوسرا چوہا آیا اور طشت کے گرد پھرنے لگا. میں خاموش ( دیکھ رہا) تھا.

پھر وہ اپنے بل میں گھسا اور منہ میں ایک کھرا دینار لے کر نکلا اور اس کو میرے سامنے ڈال دیا. میں لکھنے میں مشغول رہا. وہ ایک گھڑی تک بیٹھا انتظار کرتا رہا پھر واپس گیا، اور دوسرا دینار لے کر آیا، اور پھر کچھ دیر بیٹھا رہا، یہاں تک کہ چار یا پانچ دینار لے کر آیا. پھر اس مرتبہ ہر بار سے زیادہ دیر تک بیٹھا رہا۔ پھر واپس گیا اور ایک چمڑے کی خالی تھیلی کھولی کر لایا اور اس کو ان دیناروں کے اوپر رکھ دیا.

میں سمجھ گیا کہ اب اس کے پاس کچھ باقی نہیں رہا تو میں نے طشت اُٹھا دیا. دونوں جو ہے بھاگ کر فور اہل میں گھس گئے اور میں نے دینار لے لیے …

کسب معاش کا عجیب واقعہ

حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایک دن حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ عمامہ اوڑھے ہمارے ہاں تشریف لائے، اور بتلایا کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں مجھے بہت شدید بھوک لگی تو میں دیہات میں کسی کام کی تلاش میں نکلا... میں نے ایک عورت دیکھی جس نے مٹی کے ڈھیلے جمع کئے ہوئے تھے جنہیں وہ بھگونا چاہتی تھی میں اس کے پاس گیا اور ایک چھوارے کے بدلہ ایک ڈول پانی ڈالنے کا معاملہ طے کیا... پھر میں نے سترہ ڈول کھینچے یہاں تک کہ میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے پھر میں پانی پر گیا ہاتھ دھوئے، اور عورت کے پاس آکر کہا اتنے کافی ہیں، (اور (روای حدیث ) اسمٰعیل نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور اکٹھے کر لئے ) تو اس نے مجھے سولہ چھوارے گن کر دیئے، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو واقعہ بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میرے ساتھ چھوارے کھائے.

حماد بن زید اپنی حدیث میں یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: تو میں نے سولہ یا سترہ ڈول کھینچے. پھر اپنے ہاتھ دھوئے اور چھوارے لیکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اچھا کہا اور میرے لئے دعا فر کی. حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: میں ایک احاطہ یا باغ کی طرف گیا تو مجھے اس کے مالک نے کہا ایک ڈول اور ایک چھوارہ کے تو میں نے ایک ایک ڈول ایک ایک چھوہارہ کے بدلہ ڈالا تو میری ہتھیلیاں بھر گئیں پھر میں نے پانی پیا پھر میں چھواروں سے بھرا ہوا چلو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا تو بعض آپ نے کھائے اور بعض میں نے. (۳۱۳ روشن ستارے)

بے دین کو دیندار بنانے کا ایک عجیب فاروقی نسخہ

ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کی سند سے نقل کیا ہے، کہ اہل شام میں سے ایک بڑا بارعب قوی آدمی تھا اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا کرتا تھا. کچھ عرصہ تک وہ نہ آیا تو فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا. لوگوں نے کہا کہ امیر المؤمنین اس کا حال نہ پوچھئے وہ تو شراب میں مست رہنے لگا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے منشی کو بلایا اور کہا یہ خط لکھو: "منجانب عمر بن خطاب بنام فلاں بن فلاں سلام علیک اس کے بعد میں تمہارے لئے اس اللہ کی حمد پیش کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، گناہوں کو معاف کرنے والا توبہ قبول کرنے والا،. سخت عذاب والا، بڑی قدرتوالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں. اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے"

پھر حاضرین مجلس سے کہا کہ سب مل کر اس کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو پھیر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے. فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس قاصد کے ہاتھ یہ خط بھیجا تھا اس کو ہدایت کر دی تھی کہ یہ خط اس کو اس وقت تک نہ دے جب تک وہ نشہ سے ہوش میں نہ آئے اور کسی دوسرے کے حوالے نہ کرے...

جب اس کے پاس حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ خط پہنچا اور اس نے پڑھا تو بار باران کلمات کو پڑھتا اور غور کرتا رہا کہ اس میں مجھے سزا سے ڈرایا بھی گیا ہے، اور معاف کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے، کہ پھررونے لگا اور شراب نوشی سے باز آ گیا اور پھر اس کے پاس نہ گیا...

معاملات میں سب کو ایسا ہی کرنا چاہئے کہ جب کوئی بھائی کسی لغزش میں مبتلا ہو جائے تو اس کو درستی پر لانے کی فکر کرو. اور اس کو اللہ کی رحمت کا بھروسہ دلاؤ، اور اللہ سے اس کے لئے دعا کرو کہ وہ تو بہ کرلے اور تم اس کے مقابلے پر شیطان کے مددگار نہ بنو یعنی اس کو برا بھلا کہہ کر یا غصہ دلا کر دین سے دور کر دو گے تو یہ شیطان کی مدد ہوگی... ( معارف القرآن جلدے صفحہ ۵۸۲)

متعلقہ موضوعات:

اسلامی واقعات (قسط نمبر سات )

اسلامی واقعات (قسط نمبر آٹھ )

اسلامی واقعات (قسط نو)