اسلامی واقعات (قسط نو)
عبد اللہ بن ابی بن سلول کے جنازہ کا واقعہ
حضرت اسمعیل بن عیاش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازہ کے لئے بلایا گیا جب آپ اس کا جنازہ پڑھانے کے ارادہ سے کھڑے ہوئے تو میں مڑا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ کے دشمن ابن ابی بن سلول کا جنازہ پڑھائیں گے جو فلاں دن میں فلاں فلاں بات کہنے والا تھا؟ اور میں اس کی کارگزاریاں شمار کرنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے حتی کہ میں نے بہت زیادہ اصرار کیا تو آپ نے فرمایا اے عمر! مجھ سے ہٹ جاؤ مجھے اختیار دیا گیا ہے لہذا میں نے اس کا جنازہ پڑھنے کو اختیار کر لیا ہے ان کے بارے میں کہا گیا ہے اولا تستغفر لهم( خواہ تم ان کے لئے بخشش مانگو یا نہ مانگو) اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے ستر سے زیادہ دفعہ ان کی بخشش کی دعا سے انہیں بخش دیا جائے گا تو میں ستر سے زیادہ دفعہ بھی ان کے لئے استغفار کرتا ... پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایا اور اسی کے ساتھ گئے حتی کہ اس کی تدفین سے فراغت تک اس کی قبر پر تشریف فرمار ہے ... مجھے اپنے اوپر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی جرات پر بہت تعجب ہو رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ... پس اللہ تعالیٰ کی قسم کہ تھوڑی سی دیر گزری تھی کہ یہ دو آیتیں نازل ہوئیں،
ولاتصل على احدمنهم مات ابداً ولا تقم على قبره
( التو به ۸۴)
"اور ان میں کوئی مرجائے تو اس (کے جنازہ) پر بھی نماز نہ پڑھئے اور نہ ( دفن کے لئے ) اس کی قبر پر کھڑے ہوئے کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے ہیں"
پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کا جنازہ نہیں پڑھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلالیا ..... حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مخلوق سے جدا نے میں اپنی ہمت صرف کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حق کے ساتھ موافق ہونے کی وحی نازل فرمائی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقوں پر جنازہ پڑھنے سے اور جن سے فدیہ لیا انہیں چھوڑنے سے اپنے قدیم علم اور ان پر اپنی قدرت کے سبب منع فرمایا اور جو لوگ مخلوق سے جدائی (اور وصولی الی اللہ ) کی مستی میں ہوتے ہیں ان کا طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی اکثر باتوں میں اجتماعیت کے حامی رہتے ہیں اور اپنے سب احوال وافعال میں افتراق سے محفوظ رہتے ہیں..
اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ زندگی میں بھی اور موت میں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اس لئے کہ آپ اپنی بیداری میں اور نیند میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تابعدار ر ہے ہر حال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ... تمام افعال میں تابعداری کی اور کہا گیا ہے کہ تصوف شریعت کے طریقوں پر استقامت اور رضائے الہی کے حصول کی کوشش کا نام ہے .... (۳۱۳ روشن ستارے)
حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ کی کرامت
حضرت جنید بغدادی رحم اللہ تعلی کے دور میں ایک امیر شخص تھا جس کی بیوی رشک قمر بغدادی حالت تال دورمیں ایران کی اور پری چہر تھی ... اس عورت کو اپنے حسن پر بڑا ناز تھا ایک مرتبہ بناؤ سنگھار کرتے ہوئے اس نے ناز نخرے سے اپنے شوہر سے کہا کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھے دیکھے اور میری طمع نہ کرے ... خاوند ے کہا مجھے امید ہے کہ جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کو تیری پروا بھی نہیں ہوگی... بیوی نے کہا مجھے اجازت ہو تو جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالی کو آزما لیتی ہوں ... یہ کون سامشکل کام ہے یہی گھوڑا اور یہی گھوڑے کا میدان ... دیکھ لیتی ہوں جنید بغدادی کتنے پانی میں ہیں ... خاوند نے اجازت دے دی ... وہ عورت بن سنور کر جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس آئی اور ایک مسئلہ پوچھنے کے بہانے چہرے سے نقاب کھول دیا ... جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کی نظر پڑی تو انہوں نے زور سے اللہ کے نام کی ضرب لگائی اس عورت کے دل میں یہ نام پیوست ہو گیا اس کے دل کی حالت بدل گئی وہ اپنے گھر واپس آئی اور سب ناز نخرے چھوڑ دیئے ... زندگی کی صبح و شام بدل گئی... سارا دن قرآن مجید کی تلاوت کرتی اور ساری رات مصلے پر کھڑے ہو کر گزار دیتی خشیت الہی اور محبت الہی کی وجہ سے آنسوؤں کی لڑیاں اس کے رخساروں پر بہتی رہتیں ... اس عورت کا خاوند کہا کرتا تھا کہ میں نے جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کا کیا بگاڑا تھا کہ اس نے میری بیوی کو راہبہ بنا دیا اور میرے کام کا نہ چھوڑا .... (انمول موتی)
ستر یوشی کا عجیب واقعہ
حضرت سید نا شیخ بو عبداللہ حیاط رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اجبرت میں کھوٹا سکہ دے جاتا... آپ اس کو لے لیتے ... ایک بار آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غیر موجودگی میں شاگرد نے آتش پرست سے کھوٹا سکہ نہ لیا... جب حضرت سیدنا شیخ عبداللہ خیاط رحمتہ اللہ علیہ واپس تشریف لائے اور ان کو یہ معلوم ہوا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے شاگرد سے فرمایا۔ تونے کھوٹا اور ہم کیوں نہیں لیا ؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹا سکہ ہی دیتا رہا ہے ... اور میں بھی چپ چاپ لے لیتا ہوں تا کہ یہ کسی دوسرے مسلمان کو نہ دے آئے …( احیاء اعلوم )
