ads

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات

اللہ تعالی نے آپ کو کچھ ایسی خصوصیات سے نوازا ہے جو دوسرے انبیاء و رسل میں نہیں پائی جاتیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:

ا - خاتم الانبیاء ہونا:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔

۲- عموم رسالت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت کے لیے رسول بنا کر مبعوث کئے گئے ہیں اور سارے لوگ امت محمدیہ کہلائے جائیں گے ، جس نے آپ کی اطاعت کی وہ جنتی ہو گا۔ اور جس نے آپ کی نافرمانی کی وہ جنم رسید ہو گا۔

یہودی اور عیسائی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع کے مکلف ہیں، اور جنہوں نے آپ کی پیروی نہ کی اور آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان نہ لائے وہ در حقیقت حضرت موسیٰ و حضرت عیسی اور سارے انبیاء کرام کے منکر ہیں اور یہ سارے انبیاء ان پیرو کاروں سے اپنی براءت کا اظہار کریں گے کیونکہ ان انبیاء کرام نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کی بشارت دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے اور اس لئے بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا دین اسلام سارے انبیاء کرام کا دین ہے جس کو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت و رسالت کے ذریعہ درجہ کمال کو پہنچا دیا ہے، اس لیے کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد دین اسلام کےعلاوہ کسی دوسرے دین کو اپنائے، کیونکہ دین اسلام ہی آخری اور مکمل دین شریعت ہے اور تاقیامت محفوظ رہنے والا ہے۔

جہاں تک یہودیت اور عیسائیت کا تعلق ہے تو وہ اپنی اصل شکل میں موجود نہیں، بلکہ ان میں غیر معمولی طور پر تحریف و تبدیلی کی جاچکی ہے، اس لیے جس نے دین اسلام کی پیروی کی وہ موسیٰ و عیسی اور سارے انبیاء کرام کا متبع ہے، اور جس نے دین اسلام کا انکار کیا وہ موسیٰ وعیسی اور سارے انبیاء کا منکر سمجھا جائے گا، بھلے ہی وہ موسیٰ یا عیسی علیہما السلام کی اتباع کا دعوی کرے، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں ذی شعور اور انصاف پسند یہودیوں اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد آپ پر ایمان لائی اور دین اسلام میں داخل ہوئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات:

قرآن کی اصطلاح میں معجزات کو آیات کہا جاتا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے، لیکن معجزات کا لفظ ہم نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ خارق عادت امور کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔

سیرت نگاروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کی سچائی ثابت کرنے کے لیے بطور دلیل نمودار ہوئے، تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جن کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ پہنچ جاتی ہے جن میں سے بعض یہ ہیں۔

٣- مہر نبوت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا ہونا۔

٤- بادل کا سایہ:

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دھوپ میں چلا کرتے تھے تو بادل کا ایک ٹکڑا آپ کے اوپر سایہ فگن ہوتا تھا۔

٥- کنکری کی تسبیح:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں کنکریوں نے تسبیح تحمید کی۔

٦- درخت کا سلام:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت نے سلام کیا۔

٧- پیشگوئیاں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت ہونے والے بعض واقعات کی پیشگوئیاں فرمائیں تھیں جو رفتہ رفتہ رونما اور حرفا حرف صحیح ثابت ہو رہی ہیں اور ان کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ واقعات جن کا علم اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا، حدیث کی کتابوں میں پوری تفصیل کے ساتھ مدون و محفوظ ہیں۔

کتب حدیث کے علاوہ علامات قیامت کے موضوع پر علماء کرام کی کتابوں مثلاً امام ابن کثیر کی تألیف "النهايه " نیز کتاب " الاخبار المشاع فی اشراط الساعۃ " اور کتب حدیث میں "ابواب الفتن و الملاحم" کے تحت بھی یہ تفصیلات مذکور ہیں۔

مذکورہ معجزات دوسرے انبیاء کے معجزات سے مشابہ ہیں، لیکن ان کے علاوہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسے عظیم معجزہ سے نوازا ہے جو تاقیامت باقی رہے اور جو کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوا.

اور وہ عظیم معجزہ ہے:

قرآن کریم:

جس کی حفاظت کا خود اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے جس میں کسی قسم کی تحریف و تبدیلی ناممکن ہے، اگر کسی بدبخت نے اس کی کوشش کی تو وہ ناکام و نامراد رہا کیونکہ قرآن کریم کے کروڑوں نسخے ساری دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود ہیں جو کہ ایک دو سرے سے ایک حرف اور نقطہ میں بھی مختلف نہیں ہیں۔

لیکن اس کے بر عکس تورات و انجیل میں غیر معمولی تحریف و تبدیلی ہو چکی ہے، ان کے نسخے متعدد اور ایک دو سرے سے مختلف ہیں اور ہر طباعت، سابقہ طباعت سے مختلف ہوتی ہے ، کیونکہ اللہ نے ان کی حفاظت کی ذمہ داری یہودیوں اور عیسائیوں کو سونپی تو انہوں نے ان کے ساتھ کھلواڑ کیا جب کہ قرآن کی حفاظت کا خود اللہ نے وعدہ فرمایا ہے

جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:


(إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ) (الحجر : )

"ہم نے ہی ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں"

اہم موضوع

روزه کا بیان

حج کی قسمیں

نماز کا آغاز

زکوۃ کا بیان