اسلامی واقعات (قسط نمبر آٹھ )
حضرت اسامہ بن زید کے اسلام لانے کا واقعہ
حضرت اسامہ بن زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا صاحب سے نقل کرتے ہیں: کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں اپنے ابتدائے اسلام کے بارے میں بتاؤں ... ہم نے کہا ہاں .... کہنے لگے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ دشمنی رکھا تھا۔ میں صفا کے قریب ایک گھر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا... آپ نے میری قمیص کے جوڑ سے پکڑا اور فرمایا اے خطاب کے بیٹے مسلمان ہو جا... اے اللہ اسے ہدایت عطا فرما تو میں نے عرض کیا اشهد ان لا اله الا الله و اشهد انک رسول الله... مسلمانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا جومکہ کے راستوں میں سنا گیا...
اس وقت مسلمان اپنے اسلام کو چھپاتے تھے، جب بھی کوئی آدمی مسلمان ہوتا تو مشرک لوگ اس سے چھٹ جاتے، اور اسے مارتے تھے میں اپنے ماموں کے پاس گیا اور اسے بتلایا تو وہ گھر میں چلا گیا اور دروازہ بند کرلیا۔ پھر میں قریش کے ایک سردار کے پاس گیا، اور اسے اپنے اسلام کی خبر دی تو وہ بھی اپنے گھر میں گھس گیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا یہ کیا بات ہے لوگوں کو تو مار پڑتی ہے اور مجھے کوئی نہیں مارتا؟ ایک آدمی نے مجھے کہا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے اسلام کی خبر پھیلے؟ میں نے کہا ہاں اس نے کہا جب لوگ حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوں، تو فلاں کے پاس جا کر کہنا میں صحابی ہو گیا تو تمہارا اسلام پوشیدہ نہیں رہے گا چنانچہ میں اس کے پاس گیا اور کہا تم جانتے ہو کہ میں صحابی ہو گیا ہوں وہ فوراً اونچی آواز پکار اٹھا کہ خطاب کا بیٹا صحابی ہو گیا ہے، پھر وہ مجھے مارتے اور میں انہیں مارتا رہا حتی کہ میرے ماموں نے کہا! اے قوم میں نے اپنے بھانجے کو پناہ دی ہے لہذا اسے کوئی ہاتھ نہ لگائے، تو وہ سب مجھ سے ہٹ گئے. پھر میں نہیں چاہتا تھا کہ میں کسی مسلمان کو مارکھاتا ہوا.سنوں اور اسے نہ دیکھو میں نے کہا لوگ مار کھائیں اور میں نہ کھاؤں؟
بس جب قریشی لوگ حجر اسود میں بیٹھے تو میں اپنے ماموں کے پاس گیا اور کہا سنو! اس نے کہا کیا سنوں؟ میں نے کہا تمہاری پناہ تمہیں واپس لوٹائی جاتی ہے. اس نے کہا ایسا نہ کرو میں نے انکار کیا تو اس نے کہا جیسے تم چاہو پھر میں مارکھاتا بھی رہا اور مارتا بھی رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا .... (۳۱۳ روشن ستارے)
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کا واقعہ
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ تعالیٰ مشہور محدث ہیں... ایک مرتبہ حج کے سفر پر روانہ ہوئے تو جنگل میں ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا ان کے ساتھی کسی کام کے لیے شہر گئے تو وہ اپنے خیمے میں اکیلے تھے اتنے میں ایک خوبصورت عورت ان کے خیمے میں آئی اور کچھ مانگنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے کچھ کھانا اس کو دینا چاہا تو اس عورت نے برملا کہا کہ میں آپ سے وہ کچھ چاہتی ہوں جو ایک عورت مرد سے چاہتی ہے دیکھو تم نو جوان ہو میں خوبصورت ہوں ہم دونوں کے لطف اندوز ہونے کے لیے تنہائی کا موقع بھی ہے..
حضرت سلیمان بن بیار رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنا تو سمجھ گئے کہ شیطان نے میری عمر بھر کی محنت ضائع کرنے کے لیے اس عورت کو بھیجا ہے وہ خوف خدا سے زارو قطار رونے لگے اتنا روئے اتنا روئے کہ وہ عورت شرمندہ ہو کر واپس چلی گئی... حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ مصیبت سے جان چھوٹی ....
رات کو سوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام کی خواب میں زیارت ہوئی... حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا مبارک باد ہو... تم نے ولی ہو کر وہ کام کر دکھایا جو ایک نبی نے کیا تھا .... (انمول موتی )
امام شافعی رحمہ اللہ کا ہارون رشید سے معاملہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے، کہ خلیفہ ہارون الرشید اپنی بیوی زبیدہ سے مناظرہ کر رہا تھا. اثنائے گفتگو زبیدہ نے ہارون الرشید کو دوزخی کہہ دیا. ہارون الرشید نے کہا کہ اگر میں دوزخی ہوں تو تمہیں میری طرف سے طلاق ہے.
غرض دونوں آپس سے جدا ہو گئے. چونکہ خلیفہ کو زبیدہ سے بہت محبت تھی، اور زبیدہ بھی خلیفہ کو نہایت محبوب رکھتی تھی. اس لیے دونوں بے قرار ہوئے، تمام علمائے کرام کو جمع کرکے فتویٰ طلب کیا. مگر چپ رہے اور کہنے لگے کہ سوائے ذات الہ العالمین کے کوئی نہیں جانتا کہ خلیفہ دوزخی ہے ...یا بہشتی …
اس وقت امام شافعی بھی مجلس میں موجود تھے. اور عمر بھی گیارہ سال سے کم تھی، آپ نے کہا میں جواب دیتا ہوں.
سب لوگ حیران رہ گئے کہ ایک بچہ کیا جواب دے سکتا ہے. تب ہارون الرشید نے آپ کو بلا کر پوچھا تو آپ نے کہا! کہ چونکہ آپ سائل ہیں، اس لیے تخت سے نیچے اتر جائیں اور مجھے تخت پر بیٹھنے دیں تب میں جواب دوں گا.
خلیفہ نے ایسا ہی کیا، جب آپ تخت پر بیٹھ گئے تو فرمایا کہ تمہارے سوال کا جواب بعد میں دوں گا. پہلے تم میری بات کا جواب دو. پوچھا کیا سوال ہے؟ فرمایا کہ کیا کبھی کسی گناہ کے کرسکنے کی ہمت ہوتے ہوئے تم نے خوف خداوندی سے اس گناہ کو ترک کیا ہے.
خلیفہ نے کہا... ہاں... تب آپ نے فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ تم بہشتی ہو.
تمام علماء کرام نے یہ سن کر کہا کہ یہ کس طرح اور کس حکم سے؟آپ نے فرمایا قرآن کہتا ہے ...
"واما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى فان الجنة هي الماوى"
یہ آیت سن کر تمام علماء کرام آفرین کہتے ہوئے کہنے لگے کہ جب بچپن میں یہ حال ہے. تو جوانی میں کیا ہوگا...
