ads

اسلامی واقعات (قسط نمبرگیارہ)

اسلامی واقعات (قسط نمبرگیارہ)

صحابی کی قبر سے تلاوت کی آواز

حضرت ابوطلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں... کہ میں اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے "غابہ" جارہا تھا تو راستہ میں رات ہوگئی... اس لیے میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کے پاس ٹھہر گیا۔ جب کچھ رات گزرگئی تو میں نے ان کی قبر میں سے تلاوت کی اتنی بہترین آواز سنی کہ اس سے پہلے اتنی اچھی قرآت میں نے کبھی بھی نہیں سنی تھی…

جب میں مدینہ منورہ واپس لوٹ کر آیا اور میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا... تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ،

کیا اے ابو طلحہ! تمہیں یہ معلوم نہیں کہ الله نے ان شہیدوں کی ارواح کو قبض کرکے زبرجد اور یا قوت کی قندیلوں میں رکھا ہے... اور ان قندیلوں کو جنت کے باغوں میں آویزاں فرما دیا ہے. جب رات ہوتی ہے. تو یہ روحیں قندیلوں سے نکال کر ان کے جسموں میں ڈال دی جاتی ہیں... پھر صبح و وہ اپنی جگہوں پر واپس لائی جاتی ہیں . (حجت اللہ علی العالمین حوالہ بن منده)

مسواک کی بے حرمتی کا عبرتناک واقعہ

علامہ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے... کہ ایک شخص ابوسلامہ نامی جو بصری مقام کا باشندہ اور نہایت بے باک اور بے غیرت تھا، اس کے سامنے مسواک کے فضائل و مناقب اور محاسن کا ذکر آیا تو اس نے ازراہ غیظ و غضب قسم کھا کر کہا کہ میں مسواک کو اپنی سرین میں استعمال کروں گا... چنانچہ اس نے اپنی سرین میں مسواک گھما کر اپنی قسم کو پورا کر کے دکھایا. اور اس طرح مسواک کے ساتھ سخت بے حرمتی اور بے ادبی کا معاملہ کیا جس کی پاداش میں قدرتی طور پر ٹھیک نو مہینہ بعد اس کے پیٹ میں تکلیف شروع ہوئی... اور پھر ایک ( بدشکل) جانور جنگلی چوہے جیسا اس کے پیٹ سے پیدا ہوا جس کے ایک بالشت چار انگلی کی دم.... چار پیر... مچھلی جیسا سر اور چار دانت باہر کی جانب نکلے ہوئے تھے... پیدا ہوتے ہی یہ جانور تین بار چلایا جس پر اس کی بچی آگے بڑھی اور سر چل کر اس نے جانور کو ہلاک کر دیا اور تیسرے دن یہ شخص بھی مر گیا …( فضائل مسواک صفحه ۵۰)

اذان کی بے حرمتی کرنے کی سزا

اسلام آباد کے زلزلہ زدہ مارگلہ ٹاور کے ملبہ میں سے ایک شخص کا کٹا ہوا سر ملا... دھڑ نہ مل سکا ... بعض افراد نے سر کو پہچان کر بتایا کہ یہ بدنصیب شخص جب اذان شروع ہوتی تو گانوں کی آواز مزید اونچی کر لیتا تھا۔ اس خوفناک زلزلے نے پاکستان کے مشرقی حصے میں افراد مارے گئے اور زخمیوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں …

عبدالحفیظ جونپوری کی تو بہ کا واقعہ

یہ بھی مشہور شاعر تھے، اور بہت شراب پیتے تھے. جب توبہ کی توفیق ہوئی تو حضرت نوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور بیعت ہو گئے. اور بیعت بھی اس طرح کی کہ پہلے چند دن خانقاہ میں قیام کیا. تھوڑی تھوڑی سی داڑھی آگئی تھی جس دن بیعت کرنی تھی، اس دن داڑھی کو صاف کر کے خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا! کہ جب توبہ ہی کرنی تھی تو پھر داڑھی کے نور کو کیوں صاف کیا؟ تو عرض کیا.... حضرت آپ حکیم الامت ہیں، میں مریض الامت ہوں، اور مریض کو اپنا پورا مرض حکیم کے سامنے پیش کرنا چاہئے، تا کہ وہ صحیح نسخہ تجویز کرے... اب وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی داڑھی نہیں منڈاؤں گا۔ پھر حضرت تھانوی رحمہ اللہ ایک سال بعد جونپور تشریف لے گئے تو انکی داڑھی خوب بڑھ چکی تھی تو حضرت نے فرمایا یہ بڑے میاں کون ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ وہی عبد الحفیظ جو نپوری ہیں جو تھانہ بھون بیعت کیلئے گئے تھے.

موت سے تین دن پہلے ان پر ایسا خوف الہی طاری ہوا کہ تڑپ تڑپ کر ایک دیوار سے دوسری دیوار کی طرف جاتے تھے، اور خود ہی رورو کر جان دیدی اور اپنے دیوان میں یہ اشعار بڑھا گئے۔

میری کھل کر سیاہ کاری تو دیکھو اور انکی شان ستاری تو دیکھو

گڑا جاتا ہوں جیتے جی زمین میں گناہوں کی گراں باری تو دیکھو

ہوا بیعت حفیظ اشرف علی سے بایں غفلت یہ ہوشیاری تو دیکھو

(ماہنامہ "محاسن اسلام" مارچ 2009ء)

متعلقہ موضوعات:

اسلامی واقعات (دوسری قسط)

اسلامی واقعات (تیسری قسط)

اسلامی وا قعات (قسط نمبر چار)