اسلامی واقعات (تیسری قسط )
ایک صحابی رسول کی قابل رشک حالت
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے... کہ جنگ احد کے دن میں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دوسرے شہید ( حضرت عمرو بن جموح ) کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کر دیا تھا.
پھر مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میرے باپ ایک دوسرے شہید کی قبر میں دفن ہیں. اس لیے میں نے اس خیال سے کہ ان کو ایک الگ قبر میں دفن کروں. چھ ماہ کے بعد میں نے ان کی قبر کو کھود کر لاش مبارک کونکالا تو وہ بالکل اسی حالت میں تھے، جس حالت میں میں نے ان کو دفن کیا تھا۔ بجز اس کے کہ ان کے کان پر کچھ تغیر ہواتھا ۔ ( بخاری )
عدالت فاروقی میں ایک ایمان افروز واقعہ
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عدالت عالیہ میں ایک مقدمہ پیش ہوا.
دو خوبصورت نوجوان ایک نوجوان کو پکڑ کر حاضر ہوئے اور فریاد کی اے امیر المومنین اس نوجوان نے ہمارے بوڑھے باپ کو قتل کر دیا ہے. اس ظالم قاتل سے ہمارا حق دلوائے. آپ نے دعویٰ سننے کے بعد ملزم کی طرف دیکھا اور دریافت فرمایا کہ تو اپنی صفائی میں کیا کہتا ہے؟
ملزم نے عرض کی ہاں امیر المومنین یہ جرم واقعی مجھ سے صادر ہوا ہے میں نے زور سے ایک پتھر اسے مارا تھا جس سے وہ ہلاک ہو گیا تھا۔ فاروق اعظم نے فرمایا گویا تو اپنے جرم کا اقرار کرتا ہے" ملزم" ہاں امیر المومنین! یہ جرم واقعی مجھ سے صادر ہوا ہے. آپ نے فرمایا پھر تم پر قصاص لا زم ہو گیا اور اس کے عوض تمہیں قتل کیا جائے گا. ملزم نے جواب دیا آقا مجھے آپ کے حکم اور شریعت مطہرہ کے فتوے سے انکار نہیں البتہ میں ایک گذارش کرنا چاہتا ہوں، "ارشاد ہوا بیان کرو" عرض کی تین دن کی مہلت چاہتا ہوں. تین دن بعد حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔ "عظیم قائد نے کچھ دیر سرجھکا کر سوچا "غور کے بعد سر او پر اٹھایا اور فرمایا اچھا کون ضامن ہو گا تمہارا کہ تم واقعی وعدہ کو ایفا کرنے کے لئے تیسرے دن عدالت عالیہ میں حاضر ہو کر خون کا بدلہ خون سے دو گے. عمر فاروق کے اس ارشاد پر اس جوان نے پر امید نظروں سے حاضرین مجلس کا جائزہ کے بعد حضرت ابوذر غفاری کے پُر نور چہرے پر نگاہیں گاڑتے ہوئے اشارہ کر کے کہا یہ میری ضمانت دیں گے..
خلیفہ الرسول نے ان سے دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا بے شک میں ضمانت دیتا ہوں کہ نوجوان تین دن بعد تکمیل قصاص کے لئے عدالت میں حاضر ہو جائے گا.
اس ضمانت کے بعد ملزم کو چھوڑ دیا گیا. دو دن گزر گئے اور تیسرا دن آ گیا. جلیل القدر صحابہ اور مشیران خلافت دربار میں جمع ہوئے، دونوں مدعی بھی آگئے، حضرت ابو ذر غفاری بھی آگئے اور ملزم کا بے قراری سے انتظار ہونے لگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا۔ صحابہ کرام کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا ملزم ابھی تک نہیں پہنچا تھا، اور وقت قریب آرہا تھا اور صحابہ کو ابوذر کی نسبت پریشانی ہونے لگی ایک دو مرتبہ مدعیوں نے بھی دریافت کیا مگر انہوں نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ اگر تین یوم گزر گئے اور ملزم نہ آیا تو میں اپنی ضمانت پوری کروں گا. پریشانی کی کوئی بات نہیں،
جب حاضرین پریشانی کی انتہا پر پہنچ گئے اور دہلا دینے والے انجام کے تصور سے سہم گئے کہ اچانک ایک طرف سے ملزم دربار میں آحاضر ہوا اس کا جسم پسینے سے شرابو تھا، چہرے پر گرد جم چکی تھی، مسلسل بھاگنے سے اس کی سانس پھول گئی تھی، اس نے آتے ہی سلام کیا، اور عرض کی اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے بجالایا جاۓ.
امانت کی سپردگی:: آپ رضی اللہ عنہ کے دریافت کرنے پر ملزم نے بتایا کہ میں ایک امانت،، امانت والے کے سپرد کرنے گیا تھا۔ واقعہ یوں ہے کہ میرا ایک چھوٹا بھائی ہے. والد فوت ہو گیا موت سے پہلے اس نے میرے پاس میرے چھوٹے بھائی کے لئے کچھ سونا رکھا تھا، اور وصیت کی تھی کہ جب وہ جوان ہو جائے تو اس کے سپرد کر دینا. میں وہ سونا ایک جگہ رکھ آیا تھا جس کا مجھے ہی علم تھا اس لیئے میں وہ سونا اس کے سپردکرنے گیا تھا۔ الحمد للہ میں امانت اس کے سپرد کر دی جس کی وہ تھی.
امیر المومنین نے حضرت ابوذر غفاری سے پوچھا! آپ نے اس ضمانت کیوں دی تھی کیا یہ آپ کا واقف تھا؟
انہوں نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہ تھا صرف یہ بات تھی کہ جب اس نے پر امید نگاہوں سے میری طرف دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ اگر بھرے مجمع میں بھی میں اس کی ضمانت نہ دوں تو کل قیامت کے دن رب العزت کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا کہ اتنے آدمیوں میں سے کوئی بھی اس کا ضامن نہ بن سکا اس لئے میں نے اس کی ضمانت دی حالانکہ میں اسے بالکل نہ جانتا تھا نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ یہ کہاں رہتا ہے بس اس کی ظاہری شرافت نے مجھے یقین دلا دیا تھا کہ وعدہ کا پکا ہے اور میں نے ضمانت دے دی یہ بات سن کر حاضرین محفل اشک آلود ہو گئے مدعیوں نے التجا کی کہ اے امیر المومنین ! ہم نے اپنے باپ کا خون معاف کر دیا... (ماهنامه "محاسن اسلام ملتان )
