اسلامی واقعات (دوسری قسط)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نصیحت کا واقعہحضرت عبدالرحمن بن عبد اللہ بن سابط رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا اور ان سے فرمایا اے عمر! اللہ سے ڈرتے رہو، اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایک عمل دن کا ہے، جسے وہ رات کو قبول نہیں فرماتا. اور ایک عمل رات میں ہے، جسے وہ دن میں قبول نہیں فرماتا. اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نوافل کو قبول نہیں فرماتا جب تک کہ تو فرض ادا نہ کر لے. اور اسی کے اعمال بھاری ہیں جس کے اعمال قیامت کے دن دنیا میں اتباع حق کی وجہ سے بھاری رہے، اور وہ اس کو لوگوں پر بھاری کر دیں گے، اور وہ ترازو جس میں کل کو حق رکھا جائے اس کا حق ہے کہ وہ بھاری ہو جائے. اور اس کے اعمال ہلکے ہیں جس کے اعمال دنیا میں باطل کا اتباع کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن ہلکے ہو جائیں گے، اور وہ اعمال اس کو دوسروں پر ہلکا کر دیں گے، اور جس ترازو میں کل کو باطل رکھا جائے اس کا حق ہے کہ وہ ہلکا رہ جائے. اللہ تعالیٰ نے جنت والوں کا تذکرہ ان کے اچھے اعمال کے ساتھ، اور ان کی کوتاہیوں سے درگزر کے ساتھ کیا ہے. پس جب میں انہیں یاد کرتا ہوں تو میں ڈرتا ہوں، کہ ہو سکتا ہے میں ان کے ساتھ نہ مل سکوں. اور اللہ تعالیٰ نے جہنم والوں کا تذکرہ ان کے برے اعمالوں کے ساتھ اور اچھے اعمال کو ان پر لوٹا دینے کے ساتھ کیا ہے، پس جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو مجھے امید ہوتی ہے کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں ہوں گا۔ تا کہ بندہ امید بھی رکھے اور خوف بھی نہ تو اللہ تعالیٰ پر تمنائیں رکھے اور نہ ہی اس کی رحمت سے مایوس ہو جائے ... پس اگر آپ نے یہ یاد رکھا تو آپ کے لئے موت سے زیادہ محبوب کوئی نہ ہوگا اور وہ تیرے پاس آنے ہی والی ہے اور اگر آپ نے میری وصیت کو ضائع کر دیا تو آپ کے نزدیک کوئی پوشیدہ چیز موت سے زیادہ نا پسند ید نہیں ہوگی اور آپ اس سے عاجز نہیں ہیں.. (۲۳۱۳ روشن ستارے)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیم پر شفقت کا واقعہ
نبی علیہ الصلوۃ والسلام عید کے دن گھر سے مسجد کی طرف تشریف لانے لگے. راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بچوں کو کھیلتے دیکھا انہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے. بچوں نے سلام عرض کیا تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب ارشاد فرمایا. اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے تو ایک بچے کو خاموشی کے ساتھ اداس بیٹھے دیکھا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب رک گئے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اداس اور پریشان نظر آ رہے ہو؟ اس نے رو کر کہا. اے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! میں یتیم مدینہ ہوں، میرے سر پر باپ کا سایہ نہیں ہے جو میرے لئے کپڑے لا دیتا. میری امی مجھے نہلا کر کپڑے پہنا دیتی اس لئے میں یہاں اداس بیٹھا ہوں. نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا کہ تم میرے ساتھ آؤ. آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر واپس اپنے گھر تشریف لائے اور سیدہ عائشہ صدیقہ سے فرمایا، حمیرا! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول الله اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں حاضر ہوں. آپ نے فرمایا اس بچے کو نہلا دو چنانچہ اسے نہلا دیا گیا اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے دوٹکڑے کر دیئے. کپڑے کا ایک ٹکڑا اسے تہبند کی طرح باندھ دیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دیا گیا. پھر اس کے سر پر تیل لگا کر کنگھی کی گئی. حتی کہ جب وہ بچہ تیار ہو گیا اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ چلنے لگا تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نیچے بیٹھ گئے اور اس بچے کو فر مایا آج تو پیدل چل کر مسجد میں نہیں جائے گا بلکہ میرے نبوت والے کندھوں پر سوار ہو کر جائے گا…
نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بچے کو کندھوں پر سوار کر لیا اور اسی حالت میں اسی گلی میں تشریف لاے جس گلی میں بچے تھے. جب بچوں نے یہ معاملہ دیکھا تو وہ روروکر کہنے لگے کاش ہم بھی یتیم ہوتے اور آج ہمیں بھی نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے نبوت والے کندھوں پر سوار ہونے کا شرف حاصل ہوتا. نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب مسجد میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے تو وہ بچہ نیچے بیٹھے گا۔ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اشارہ کر کے فرمایا کہ تم آج زمین پر نہیں بیٹھو گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا اور پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا کہ جوشخص یتیم کی کفالت کرے گا اور محبت و شفقت کی وجہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے گا اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اتنی نیکیاں لکھ دے گا.. (از خطبات فقیر )
