شہادت رسالت کا معنی
کلمہ توحید کے دو سرے جز''محمد صلی اللہ علیہ وسلم الله کے رسول ہیں'' کی شہادت کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کا اعتقاد و علم رکھیں کہ جناب محمد صلی اللہ علیہ و سلم ساری انسانیت کی طرف رسول بنا کر کے مبعوث کئے گئے ہیں، اور وہ ایک برگزیدہ بندے ہیں جن کی عبادت نہیں کی جا سکتی، اور جلیل القدر رسول ہیں جن کی تکذیب نہیں کی جا سکتی بلکہ آپ کی اطاعت و اتباع کرنا ضروری اور واجب ہے، جس نے آپ کی اطاعت و اتباع کی وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے آپ کی نا فرما نی کی جہنم رسید ھو گا.
ہم سب کو اس کا بھی عقیدہ و یقین رکھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت کے احکام کا جاننا خواہ ان کا تعلق عبادات سے ہو جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا مختلف شعبہ جات کے عدالتی اور قانونی نظام سے ہو یا حلال و حرام سے ہو، یہ تمام کی تمام چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے واسطہ سے ہم کو حاصل کرنی ہیں، کیونکہ آپ کی ذات ایسے رسول کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام و شریعت کو انسان تک پہنچانے والے ہیں لہٰذا کسی مسلما ن کےلیے جا ئز نہیں کہ ر سو ل ا للہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لائے ہوئے دین و شریعت کے علاوہ کسی اور دین و شریعت کو قبول کرے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
(وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُدُوهُ وَمَا تَنكُمْ عَنْهُ فَانتَهُو)
(الحشر: (2)
"اور جو کچھ رسول تمہیں دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے وہ تمہیں روک دیں رک جایا کرو۔"
دوسری جگہ ارشاد ہے:
(فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مما قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)
(النساء :۶۵)
"سو آپ کے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ لوگ اس جھگڑے میں جو ان میں آپس میں ہو نہیں سے آپ کو محکم نہ بنالیں اور پھر جو فیصلہ آپ کر دیں اس سے اپنے کیا ہے۔ دلوں میں تنگی نہ پائیں اور اس کو پورا پورا تسلیم کرلیں۔"
مذکورہ آیتوں کی تشریح:
اللہ تعالٰی پہلی آیت کریمہ میں مسلمانوں کو یہ حکم فرما رہا ہے کے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام چیزوں میں اطاعت و اتباع کریں جن کا آپ انہیں حکم دیں اور ان تمام چیزوں سے رک جائیں جن سے آپ منع کریں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
دوسری آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ خود اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر یہ فرما رہا ہے کسی شخص کا اس وقت تک اللہ اور اس کے رسول پر ایمان معتبر اور صحیح نہیں ہو سکتا جب تک باہمی اختلافات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے فیصلہ نہ کرائے اور پھر اس فیصلے کو بخوشی تسلیم کرلے'خواہ اس کے موافق ہو یا خلاف پڑے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"جو شخص ایسا عمل کرے جو ہمارے دین و شریعت کے مطابق نہیں وہ نا قابل قبول ہے" اس حدیث کو مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
خلا صہ کلا م:
جب تم نے کلمہ توحید و رسالت کا معنی اچھی طرح جان لیا اور تم کو اس کا بھی اندازہ ہو گیا کہ یہ عظیم الشان کلمہ اسلام کی کنجی اور اس کی بنیاد ہے جس پر سارے اسلام کا دارو مدار ہے تو تم کو صدق دل سےاس کلمہ پر ایمان و یقین رکھنا چاہیے اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے، ناکہ سعادت دارین نصیب ہو اور مرنے کے بعد عذاب الہی سے محفوظ رہ سکو، اور یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ کلمہ توحید و رسالت کے اقرار کا تقاضا تمام ارکان اسلام پر عمل کرنا ہے، کیونکہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے لیے ان عبادات کو اسی لئے فرض فرمایا ہے کہ وہ اخلاص اور صدق دل سے ان کو بجالائیں ، اور جس شخص نے ارکان اسلام میں سے کسی بھی رکن کو بغیر شرعی عذر کے چھوڑ دیا تو اس کی شہادت توحید و رسالت معتبر و مقبول نہیں۔
