جن و انس کے پیدا کرنے کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسے ہی بلا وجہ پیدا نہیں کیا بلکہ اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے،
چنانچہ ارشاد ہے :
( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ) مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ )
(الذاریات : ۵۶-۵۸)
"اور میں نے تو جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں، میں ان سے نہ روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلایا کریں، اللہ تو خود ہی سب کو روزی پہنچانے والا ہے، قوت والا، مضبوط ہے۔"
آیت کریمہ کی اجمالی تفسیر:
اللہ تعالی پہلی آیت میں یہ بیان فرما رہا ہے کہ اس نے جنات و انسان کو صرف اپنی ذات واحد کی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
جنات عقل و فہم رکھنے والی ایک مخلوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کی طرح عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور وہ ان ہی کے ساتھ روئے زمین پر رہتے ہیں لیکن انسان ان کو دیکھ نہیں پاتے۔
دوسری و تیسری آیت میں یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے مستغنی ہے، اور ان سے کسی طرح کے کھانے اور روزی کی خواہش نہیں رکھتا. بلکہ وہ تو ایسی قادر ذات پاک ہے جو سب کو روٹی روزی دیتا ہے اس کے علاوہ کوئی کسی کو رزق فراہم نہیں کرتا، وہی ذات بارش برساتا ہے، اور زمین سے طرح طرح کے اناج اور رزق پیدا فرماتا ہے۔ اور وہ دوسری ساری مخلوقات جو عقل و فہم نہیں رکھتیں انہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی خدمت و راحت کے لیے پیدا فرمایا ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت ان کی مدد سے بحسن و خوبی انجام دیں اور ان کے ساتھ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق سلوک کریں۔
کائنات کی ساری مخلوقات اور اس کی ساری نقل و حرکت اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی حکمت کے تحت ہے جس پر قرآن کریم نے روشنی ڈالی ہے اور جس سے ہر صاحب علم اپنے علم و بصیرت کے بقدر واقفیت رکھتا ہے۔
مثال کے طور پر انسانوں کی عمر میں تفاوت کا ہونا، اور روزی میں کمی بیشی کا ہونا، ابتلاء و آزمائش میں ایک دوسرے میں فرق ہونا، ان سب کا فرق و اختلاف اللہ تعالی کی مشیت و مرضی سے ہوتا ہے تاکہ اپنے عقلمند بندوں کا امتحان لے سکے.
چنانچہ جو شخص راضی برضائے الہی رہا اور قضا و قدر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات پر چلنے کی کوشش کرتا رہا، تو اسے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوگی. اور وہ اس کو سعادت دارین سے نوازے گا. اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قضا و قدر کا شکوہ کیا، اور اس کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لی. اور دنیا و آخرت میں بد بختی کا مستحق ٹھرا.
ہم دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور اپنی ناراضگی سے محفوظ رکھے۔
موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے، حساب و کتاب جزا و سزا اور جنت و جہنم کا بیان :
جب تم نے اچھی طرح یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، تو اس پر بھی ایمان و یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی نے اپنی مطابق ان کتابوں میں جن کو اپنے برگزیدہ بندوں پر نازل فرمائی ہیں، بیان فرمایا ہے کہ وہ تم کو موت دینے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کرے گا.
اور تمہارے دنیاوی نیک و بد اعمال کا بدلہ دے گا اور وہ یوم آخرت ہوگا جس کو یوم ہی جزا بھی کہتے ہیں، کیونکہ انسان موت ہی کے ذریعہ سے دار العمل اور دار الفناء سے دار الجزاء اور دار البقاء کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جب انسان دنیا کی اپنی مقررہ عمر پوری کر لیتا ہے، تو اللہ تعالی موت کے فرشتے کو اس کی روح قبض کرنے کے لیے بھیجتا ہے.
چنانچہ روح نکلنے سے پہلے موت کی سخت ترین تکلیف سے دو چار ہونے کے بعد وہ مر جاتا ہے.
اگر وہ روح بندہ مومن کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے "دارالنعیم" (جنت) میں پہنچا دیتا ہے، اور اگر کافر کی ہوتی ہے تو "دار العذاب" (جہنم) میں پہنچا دیتا ہے.
تا آنکہ دنیا کے اختتام کا وقت آجائے اور قیامت قائم ہو جائے اور جو لوگ زندہ بچھیں ہوں وہ موت کی ابدی نیند سو جائیں اور سوائے اللہ حی و قیوم کے کوئی ذات زندہ باقی نہ رہ جائے.
پھر اس کے بعد اللہ تعالٰی دوبارہ ساری مخلوق یہاں تک کہ حیوانوں کو اٹھائے گا، اور سارے جسموں میں روح لوٹا دے گا. جو پہلے ہی جیسے ہو جائیں گے. پھر اس کے بعد ان کے دنیوی اعمال پر حساب و کتاب ہو گا. اور اسی کے مطابق جزا و سزا دی جائے گی، کسی عورت و مرد، خادم و مخدوم، امیرو غریب، میں کوئی فرق و امتیاز نہ برتا جائے گا. اور ذرہ برابر کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہوگی، ظالم سے مظلوم کا حق دلایا جائے گا حتی کی حیوانات سے باہمی ظلم و زیادتی کا بدلہ چکایا جائے گا، پھر ان سے کہا جائے گا تم سب مٹی ہو جاؤ کیونکہ جانور جنت یا جہنم میں نہ جائیں گے.
اللہ تعالیٰ جنوں اور انسانوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا چنانچہ مومنین و صالحین کو جنت میں داخل کرے گا، اگرچہ وہ دنیا میں سب سے غریب رہے ہوں اور کفار و مشرکین کو جہنم رسید کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں امیر اور با حیثیت رہے ہوں.
ارشاد ہے:
( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَنْقَلَكُمْ) (الحجرات : ۱۳)
"تم میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے۔"
جنت: طرح طرح کی نعمتوں سے بھر پور جگہ ہے جسے انسان بیان نہیں کر سکتا، جس میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کے لیے قوت و ایمان اور اللہ کی اطاعت کے اعتبار سے باشندے ہیں، جنت میں سب سے کم درجہ والا شخص دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ کے عیش و آسائش سے ستر گنا زیادہ عیش و عشرت میں ہو گا۔
دوزخ: اس سے اللہ تعالیٰ ہم کو پناہ دے، وہ گونا گوں عذاب و سزا کا مرکز ہے، جس کے بیان سے قلب و جگر لرز جاتے ہیں اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، اگر قیامت کے بعد دوبارہ موت ہوتی تو محض دوزخ کے دیکھنے ہی سے لوگ مرجاتے، لیکن موت تو صرف ایک بار آتی ہے. جس کے ذریعہ انسان دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔
قرآن کریم نے موت، حشر و نشر حساب و کتاب ، جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا تفصیل سے نقشہ کھینچا ہے، اور اس کی ساری چیزوں کو وضاحت سے بیان کر دیا ہے، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔
موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب و کتاب اور جزا و سزا کے برحق ہونے پر بکثرت دلائل موجود ہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
( مِنْهَا خَلَقْتَكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا تُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى )
(طه : ۵۵)
"اسی (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی میں سے تمہیں پھر دوبارہ نکالیں گے."
مزید ارشاد ہے:
( وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِ الْعِظَمَ وَهِيَ رَمِيمٌ. قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَزَةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمُ )
(لیس : ۷۹۷۸)
"اور ہماری شان میں عجیب (گستاخانہ) مضمون بیان کیا اور اپنی خلقت کو بھول گیا، کہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب کہ وہ بوسیدہ ہو گئی ہوں، آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا اور وہی سب طرح کا پیدا کرنا خوب جانتا ہے۔"
ایک جگہ اور فرماتا ہے:
( زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَنُنَبَونَ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرُ )
(التغابن : ۷)
"جو لوگ کافر ہیں ان لوگوں کا خیال ہے کہ وہ (دوبارہ) اٹھائے نہ جائیں گے، آپ (ان سے) کہئے ضرور اور قسم ہے میرے پروردگار کی ضرور تم اٹھائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کر چکے ہو اس کی تمہیں خبر دی جائے گی اور یہ اللہ پر (بالکل) آسان ہے۔"
آیت کریمہ کی اجمالی تفسیر:
اللہ تعالیٰ پہلی آیت میں یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسان کو اس نے زمین سے یعنی مٹی سے پیدا کیا، اور یہ اس طور پر ہوا کہ اس کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا، اور دوبارہ مرنے کے بعد قبروں میں مٹی ہی میں ملا دے گا اور پھر اپنی اپنی قبروں سے سبھی کو زندہ کر کے برآمد کرے گا اور ان کا حساب و کتاب لے کر اچھے برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ ان کافروں کی تردید فرما رہا ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں اور انہیں تعجب ہوتا ہے کہ ہڈیاں سڑنے گلنے کے بعد کیسے زندہ ہو جائیں گی اور ان کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ ذات پاک جو پہلی مرتبہ ان کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہی ان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
اور تیسری آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالی انہی کفار و مشرکین کے شبہات کا جواب دے رہا ہے جو کہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں، اور اس کو ناممکن تصور کرتے ہیں تو اس کو ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرما رہا ہے کہ ان سے قسم کھا کر یہ کہدیں کہ اللہ تعالیٰ بعث بعد الموت پر قادر ہے اور ان کے اعمال سب سامنے آئیں گے اور اسی کے مطابق بدلہ دیا جائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بڑی بات نہیں، بلکہ معمولی سی چیز ہے۔
ایک دوسری آیت میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب بعث بعد الموت کے اور جنم کے منکرین کو زندہ کیا جائے گا تو انہیں جنم میں عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:
( ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِى كُنتُم بِهِ تُكَذِبُونَ ) (السجدة : (۲۰)
"لو جہنم کے عذاب کا مزہ چکھو جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔"
الله ہم سب کو جہنم سے دور فرماۓ.
آمین!
