نماز کا آغاز
نیت ہر نیک کام کے لیے نیت کا درست ہونا ضروری ہے البتہ نماز کے لیے قرآن وحدیث سے نیت کے بارے میں کوئی الفاظ بھی منقول نہیں ہیں ۔
تکبیر تحریمہ:
"اللهُ اَكْبَرُ" (اللہ سب سے بڑا ہے۔)
کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھے یا کانوں کی لو تک اٹھائیں، پھر دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھتے ہوئے سینے پر باندھ لیں۔
صحيح البخاری: ٦٦٧، صحیح مسلم: (٤٠١ (٨٩٦)
دعائے استفتاح:
تکبیر تحریمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہم وسلم یہ دعا پڑ کھاتے تھے:
اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ اَللّٰهُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَتَایَا کَمَاَ يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اَللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ
(صحيح البخاري : 744 )
”اے اللہ ! دوری ڈال دے میرے اور میرے گناہوں کے درمیان جس قدر کہ دور رکھا ہے آپ نے مشرق کو مغرب سے یا اللہ! صاف کر دے مجھے گناہوں سے جس طرح صاف کیا جاتا ہے کپڑا سفید میل کچیل سے۔ یا اللہ ! دھو ڈال میرے گناہ پانی، برف اور اولوں سے ۔“
تعوذ: أَعُوذُ بِاللهِ السَّبِيْعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفَخَهِ وَنَفَثِهِ
(سنن أبی داود: ٧٧٥، سنن الترمذی: ٢٤٢-)
"اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو سننے والا جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اس کی دیوانگی سے ، اس کے کبر سے اور اس کے شعروں سے۔"
اس کے علاوہ "أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ" بھی پڑھ سکتے ہیں.
اس کے بعد سورہ فاتحہ پڑھیں سورہ فاتحہ ہر ایک کے لیے ہر نماز کی ہر رکعت میں ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ (صحیح البخاری: ٧٥٦؛ صحیح مسلم: ٣٩٤ (٨٧٤)
سورہ فاتحہ:
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 𐩒 الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 𐩒 مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 𐩒 إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 𐩒 اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 𐩒 صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 𐩒 غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّانِيْنَ 𐩒
آمین!
"شروع اللہ کے نام سے جو بڑا رحم والا نہایت مہربان ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ کے لیے جو پالنے والا ہے تمام کائنات کا۔ نہایت رحم والا بڑا مہربان۔ مالک ہے جزا کے دن کا۔ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی راہ جن پر انعام فرمایا آپ نے نہ ان کی جن پر غضب نازل ہوا اور نہ گمراہوں کی ۔" (دعا قبل فرما)
سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہنا مسنون ہے، البتہ جہری نمازوں میں امام و متقند کی اونچی آواز سے آمین کہیں گے۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہم وسلم کا عمل (سنن الترمذى (٢٤٨، وسنن أبي داود: (۹۳۲) اور حکم ہے۔ (صحیح البخاری: ۷۸۰، وصحیح مسلم: ٤١٠ (٩١٥)
سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کوئی ایک حصہ یا کوئی ایک سورت پڑھ لی جائے۔
قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ 𐩒 اللهُ الصَّمَدُ 𐩒 لَمْ يَلِدُهُ وَلَمْ يُولد 𐩒 ولَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ 𐩒
(الاخلاص : 4/112-1)
"کہہ دیجیے ! وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے ۔ نہ اُس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولا داور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔"
یہاں پر آپ کا قیام مکمل ہو گیا، اس کے بعد رکوع ہو گا.
اہم موضوع
