زکوۃ کا بیان
اسلام کا تیسرا رکن زکوة ہے. اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب نصاب مسلمان کو زکوۃ کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے. جو سال میں ایک دفعہ نکالی جائے گی اور غریبوں اور ان مستحقین کو دی جائے گی جن کا خود قرآن نے وضاحت سے تذکرہ کیا ہے۔
سونا چاندی اور مال تجارت کا نصاب:
جب کسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے مساوی کسی طرح کی کرنسی ہو یا سامان تجارت ہوں اور وہ نصاب کو پہنچ جائیں تو اس پر پورے ایک سال گذر جانے پر زکوۃ واجب ہے، یعنی اس پوری مالیت کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) نکالنا ضروری ہوگا۔
پھل و اناج کا نصاب:
پھل اور غلے تین سو صاع کی مقدار تک پہنچ جائیں تو ان میں زکوۃ واجب ہے، جب یہ فصلیں بغیر محنت و مشقت پیدا ہوں تو اس پر دس فیصد زکوۃ نکالنا واجب ہے. اور اگر محنت و مشقت سے اس کی کاشتکاری اور سینچائی کی جائے تو اس پر پانچ فیصد نکالنا واجب ہے، اور پھلوں اور غلوں پر زکوۃ کی ادائیگی ہر فصل پر ہے، اگر سال میں دو یا تین بار فصلیں آتی ہیں تو ہر دفعہ زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے۔ غیر منقولہ جائداد اگر فروخت کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے تو اس کی قیمت میں زکوۃ واجب ہوگی اور اگر کرایہ پر دینے کے لیے تیار کی گئی ہے تو صرف کرایہ میں زکوۃ واجب ہوگی۔
(ورا أبدا إلا يعبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاة وقِيمُوا الصَّلَوَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَوةُ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيْمَةِ)
(البینه : ۵)
"حلائکہ انہیں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ دین کو اس کے لیے خالص رکھیں یکسو ہو کر، اور نماز کی پابندی رکھیں، اور زکوۃ دیا کریں، اور یہی درست دین ہے۔"
زکوۃ کے فوائد:
مال زکوۃ کی ادائیگی سے فقیروں اور مسکینوں کی دلداری ہوتی ہے اور ان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور ان کے اور مالداروں کے درمیان محبت و الفت کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
اسلام نے اجتماعی تعاون اور مسلمانوں کے مابین مالی امداد اور فقراء و مساکین کی کفالت کو صرف زکوۃ کے اندر ہی محدود و محصور نہیں کر دیا بلکہ قحط سالی کے زمانہ میں مالداروں پر غریبوں کی کفالت واجب قرار دی ہے اور یہ حرام ٹھرایا ہے کہ کوئی شخص آسودہ ہو کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو،
اسی طرح اللہ نے مسلمان پر صدقہ فطر واجب کیا ہے جسے وہ عید کے دن شہر میں رائج خوراک سے ایک صاع ہر فرد حتی کہ بچہ کی طرف سے بھی نکالتا ہے اور غلام کا صدقہ فطر اس کا مالک نکالتا ہے اسی طرح اللہ نے قسم کا کفارہ بھی واجب کیا ہے، جب کوئی مخص قسم کھا کر اسے پوری نہ کرے، مشروع نذر پوری کرنے کا بھی اللہ نے حکم دیا ہے،
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو کھانا کھلا ۓ یا انہیں کپڑا عطا کرے، اگر میسر نہ ہوں تو تین روزے رکھ لے.
اس کے علاوہ نفلی صدقات پر لوگوں کو ابھارا ہے اور خیر کے کاموں میں خرچ کرنے والوں کے لیے بہترین بدلہ کی بشارت دی ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں ان کا اجر کئی گنا بڑھا کر دے گا ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں زیادہ دے گا۔
