روزه کا بیان
اسلام کا چوتھا رکن ماہ رمضان کے روزے ہیں، رمضان بجری سال کا نواں مہینہ ہے.
روزہ رکھنے کا طریقہ:
مسلمان صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے سحری کھا کر روزہ رکھنے کی نیت کرلے، اور پھر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے، اور جماع سے رکا رہے، اور پھر غروب آفتاب کے بعد افطاری کرے. اور اللہ کی عبادت اور اس کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے اسی طرح پورے ماہ رمضان روزے رکھتا رہے۔
روزے کے فوائد:
ماہ رمضان کے روزے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہوتی ہے، کہ مسلمان محض اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کے جذبہ سے سرشار ہو کر کھانا پینا، اور ساری خواہشات نفسانیہ کو چھوڑ دیتا ہے، تاکہ اس کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہو۔
اسی طرح روزہ رکھنے میں بے شمار طبی ، معاشی اور اجتماعی فوائد مضمر ہیں. جس کا اندازہ صرف وہی روزہ دار کر سکتے ہیں، جو صحیح عقیدہ اور ایمان کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں۔
ارشاد ربانی ہے:
يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(البقره : ۱۸۳)
"اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں، عجب نہیں کہ تم متقی بن جاؤ۔"
مزید آگے ارشاد ہے:
شَْهرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْاَنُ هُدًى الِّنَّاسِ وَبَيِّنَتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ منكم الشهر فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَبَا أَخَرُ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْمُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَنَكُمْ وَلَعَلَّكُمْ
تَشْكُرُونَ
(البقره: ۱۸۵)
"ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (اس میں) کھلے ہوئے دلائل میں ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کے سو تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کا روزہ رکھے، اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو (اس پر) دوسرے دنوں کا شمار رکھنا لازم ہے اللہ تمہارے حق میں سہولت چاہتا ہے اور تمہارے حق میں دشواری نہیں چاہتا اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم شمار کی تکمیل کر لیا کرو اور یہ کہ اللہ کی بڑائی کیا کرو اس پر کہ تمہیں راہ بتادی، عجب نہیں کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔"
روزے کے مسائل:
ماہ رمضان کے روزے کے وہ مسائل جنہیں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث شریفہ میں بیان فرمائے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
جو شخص مریض ہو یا مسافر ہو اس کو ماہ رمضان میں روزے نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن رمضان کے بعد دوسرے ایام میں اس کی قضاء کرنا واجب ہے۔
اسی طرح حیض و نفاس والی عورت کا روزہ رکھنا صحیح نہیں، بلکہ اس سے فراغت کے بعد ان ایام کی قضاء کرنا واجب ہے۔
اسی طرح حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت جب اپنے لیے یا بچھ کے لیے کسی نقصان کا خطرہ محسوس کرے تو اس کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، مگر دوسرے ایام میں اس کی قضاء کرنا واجب ہے۔
اگر کوئی روزہ دار بھول کر کھا پی لے پھر اسے یاد آئے تو اس کا روزہ صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے بھول چوک اور زبردستی کی گئی چیزوں کو معاف فرما دیا ہے۔ البتہ اگر کھانے کے دوران یاد آجائے تو منہ میں جو چیز ہو باہر نکال دے۔
ان کےعلاوہ کے علاوہ بھی مسائل ہیں، جن کا آئندہ تحریر میں ذکر ہو گا.
