ads

حج کرنے کا طریقہ

 حج کرنے کا طریقہ


حج کرنے سے پہلے ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے.

اول : مال حلال و طیب کا انتظام اور مال حرام سے اجتناب کیا جائے کیونکہ حرام مال کا حج مسترد کر دیا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس گوشت و پوست کو جہنم کا ایندھن بتایا ہے جو مال حرام سے نشو و نما پایا ہو۔

دوم : ایسے رفقاء حج کا انتخاب کیا جائے جو صحیح العقیدہ اور ایمان والے

ہوں۔

سوم : جب حاجی میقات پر پہنچ جائے تو وہاں سے احرام باندھے، اگر ہوائی جہاز میں ہو تو میقات کے قریب پہنچتے ہی احرام باندھ لے اور میقات سے ہرگز تجاوز نہ کرے۔

میقات کا بیان:

مکہ مکرمہ کے باہر سے آنے والے تمام حجاج کے لیے مندرجہ ذیل میقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہیں۔

(١) ذو الحلیفہ:

یہ مدینہ سے یا اس راستے سے آنے والے حجاج کی میقات ہے، اسے ابیار علی بھی کہتے ہیں۔

(۲) جحفہ:

یہ شام و مصر اور مغرب اور اس طرف سے آنے والے تمام حجاج کرام کی میقات ہے، یہ رابغ شہر سے قریب ہے۔

(۳) قرن المنازل:

یہ اہل نجد اور طائف اور اس راستے سے آنے والے تمام حجاج کی میقات ہے یہ ”سیل “ اور ”وادی محرم “ کے نام سے مشہور ہے.

(٤)ذات عرق :

یہ اہل عراق یا اس راستے سے آنے والے تمام حجاج کی میقات ہے۔

(٥) فیلم :

یہ اہل یمن اور جنوب کی طرف سے آنے والے حجاج کی  میقات ہے.

جو لوگ حج یا عمرہ کی نیت سے آتے ہوئے ان میقات سے گذریں چا ))ہے یہ حاجی حضرات میقات کے باہر دور یا قریب کے ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطہ سے آ رہے ہوں انہیں بہرحال یہاں سے احرام باندھ کر ہی جانا چاہیئے۔

اہل مکہ نیز جو لوگ حدود میقات کے اندر رہنے والے ہیں وہ حج کا احرام اپنے گھروں سے باندھ کر آئیں، گھر سے میقات جاکر احرام باندھنے کی ضرورت نہیں۔احرام سے پہلے جسم کی صفائی و ستھرائی کرنا، غسل کرنا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔

میقات پہنچ کر احرام کے کپڑے زیب تن کرے، اور ہوائی جہاز سے سفر کرنے والا شخص گھر ہی سے کپڑے پہنے اور میقات پہنچ کر تلبیہ کہہ کر حج یا عمر کی نیت کرے۔

مرد کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ دو صاف ستھرے کپڑوں میں احرام باندھے جو سلے ہوئے نہ ہوں اور اپنے سر کو نہ ڈھاکے بلکہ اس کو کھلا کر رکھے۔

عورت حالت احرام میں کسی بھی قسم کے کپڑے پہن سکتی ہے، اس کے لیے مخصوص قسم کے کپڑے ضروری نہیں، ہاں شرط یہ ہے کہ اس کا لباس کشادہ اور ساتر ہو، اور بے پردگی اور اظہار زینت والا نہ ہو، اس کے لیے احرام کے وقت دونوں ہاتھوں میں دستانے پہننا یا نقاب کے ذریعہ اپنے چہرے کو چھپانا ممنوع ہے، البتہ اگر غیر محرم سامنے آجائےتو چرہ پر کوئی کپڑا لٹکا لینا یا کسی اور چیز سے منہ چھپانا منع نہیں ہے، جیسا کہ ازواج مطہرات جب ان کے سامنے سے قافلے گذرتے تھے تو سروں ساوہ حج کا سے اپنی چادریں چہرے پر لٹکا لیتی تھیں۔

متعلقہ موضوع