اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان
اللہ تعالیٰ کے صفات عظیمہ کے ایک یہ ہے کہ وہ اول ہے جس کی کوئی ابتدا نہیں اور وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والی ذات ہے جو نہ کبھی مرنے والی اور نہ ختم ہونے والی ہے، جو بذات خود غنی ہے کسی دوسرے کی محتاج نہیں، وہ تن تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوا أَحَدُ
(سورۃ الاخلاص)
"آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس لیے کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے."
آیت کریمہ کا معنی:
جب کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے متعلق دریافت کیا تو یہ سورت نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے حکم فرمایا کہ ان یہ کہیں کہ اللہ تعالٰی واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالی کی ذات ہمیشہ ہمیش زندہ رہنے والی اور کائنات کا نظام چلانے والی ہے، اس کے لیے ساری کائنات کی سرداری ہے اور اس کی ذات پاک سب کے لیے ماوی و ملجا ہے، جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے، اس کا نہ کوئی لڑکا ہے نہ لڑکی اور نہ باپ ہے اور نہ ماں، بلکہ اس نے اس سورہ میں اور دیگر سورتوں میں بھی ان تمام چیزوں کی اپنی ذات پاک کی طرف نسبت کی شدید مذمت فرمائی ہے کیونکہ شجرہ نسب اور پیدائش کا ہونا مخلوقات کے صفات میں شمار ہوتا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالی نے عیسائیوں کے اس نظریہ کی کہ "حضرت عیسی اللہ کے بیٹے ہیں" اور یہودیوں کے اس عقیدہ کی کہ "عزیز اللہ کے لڑکے ہیں " شدید نکیر و تردید فرمائی ہے، اسی طرح بعض لوگوں کے اس قول کی کہ "فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں" مذمت فرمائی ہے اور اس کی وضاحت فرمائی کہ اس نے حضرت عیسی کو اپنی قدرت سے اسی طرح بغیر باپ پیدا فرمایا ہے جس طرح کہ حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے اور حضرت حوا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا فرما دیا، پھر ان کی اولاد یعنی ساری انسانیت کو ماں باپ کے نطفہ سے پیدا فرمایا۔
ابتدائے آفرینش میں ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا پھر، اس نے اپنےمخلوقات کے سلسلہ میں ایسا نظام مقرر فرما دیا، جس میں کوئی شخص تبدیلی نہیں کر سکتا، اور اسی باریک قانون فطرت کے تحت وہ چیز معرض وجود میں آتی ہے، مگر یہ کہ خود اللہ تعالی ہی اس نظام و قانون سے ہٹ کر اگر کوئی چیز پیدا کرنا چاہے تو بغیر کسی رکاوٹ کے پیدا کرنے پر قادر ہے. جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا جو ماں کی گود میں ہی بول رہے تھے، اور موسیٰ علیہ السلام کے عصا کو سانپ میں تبدیل فرما دیا، اور جب انہوں نے اپنے اسی عصا سے سمندر کو مارا تو اس میں راستہ بن گیا، جس پر سے وہ اور ان کی قوم سمندر عبور کر گئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے چانڈ کو دو ٹکڑے کر دیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کے پاس سے گذرتے تھے تو وہ آپ کو سلام کرتے تھے، اور جانور آپ کی نبوت و رسالت کی بآواز بلند شہادت دیتے تھے جسے لوگ اپنے کانوں سے سنتے تھے، اور آپ کو براق پر سوار کر کے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا، پھر وہاں سے آسمانوں تک حضرت جبرئیل کی معیت میں لے جایا گیا اور وہاں سے سےبارگاہ الہی میں حاضر ہوئے اور اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ سے کلام فرمایا اور پانچ وقت کی نمازوں کا تحفہ لے کر مسجد حرام واپس تشریف لائے اور اس سفر میں جو صرف ایک رات کا تھا ہر آسمان پر رہنے والوں کے سے متعارف ہوئے، اسراء معراج کے واقعہ کی تفصیلات قرآن کریم اور کتب احادیث و تاریخ میں موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سننا دیکھنا، علم رکھنا، قدرت رکھنا اور ارادہ کرنا بھی ہے، چنانچہ وہ ہر چیز کو سنتا اور دیکھتا ہے اور کوئی چیز بھی اس کو سننے اور دیکھنے سے مانع نہیں، اور رحم کے اندر کی چیزیں اور سینے میں چھپے ہوئے راز اور دنیا میں جو کچھ ہو چکا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے اللہ تعالی اس کا بخوبی علم اور واقفیت رکھتا ہے۔ وہ ذات ایسی و قادر مطلق ہے کہ جب کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو کن (ہو جا) کہتی ہے اور وہ چیز ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن صفات سے اپنی ذات پاک کو متصف کیا ہے۔ ان میں سے صفت کلام بھی ہے چنانچہ وہ جس طرح اور جیسے چاہتا ہے کلام فرماتا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کلام فرمایا، اسی طرح قرآن کریم مع اپنے حروف و معانی کلام الہی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور گمراہ فرقہ معتزلہ کے نظریہ کی طرح مخلوق نہیں ہے۔
منجملہ ان صفات کے جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے کو متصف فرمایا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بیان فرمایا ہے وہ چہرے کا ہونا دونوں ہاتھ کا ہونا، مستوی ہونا، نزول فرمانا، خوش ہونا اور ناراض ہونا ہے۔ (جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ” جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے"۔)
چنانچہ وہ اپنے مومن بندوں سے راضی اور خوش ہوتا ہے اور کفار و مشرکین اور اس کی نافرمانی کرنے والوں سے ناراض اور غصہ ہوتا ہے۔
اور اس کا راضی ہونا اور غصہ ہونا اس کے دیگر صفات کی طرح اس کی شایان شان ثابت ہیں، جو مخلوق کی صفات سے مشابہ نہیں، اور نہ ہی ان کی تاویل کی جا سکتی اور نہ کیفیت بیان کی جاسکتی ہے۔
قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ مومنین میدان محشر میں اور جنت میں اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اللہ تعالیٰ کے دیگر صفات کا قرآن کریم اور احادیث میں تفصیل سے ذکر آیا ہے وہاں اس کا مطالعہ کر لینا چاہیئے۔
