ads

حقوق العباد

حقوق العباد


والدین کے حقوق

اللہ تعالٰی نے ہر مسلمان مرد و عورت پر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت و اطاعت ضروری قرار دیا ہے، تاکہ وہ ان سے راضی اور خوش رہیں، کیونکہ ان کی خوشنودی اللہ تعالی کی خوشنودی ہے۔

اسی طرح والدین سے دور رہنے والے کے لیے ان کی برابر زیارت کرنا ان کی خدمت کرنا اور ضرورت مند ہوں تو ان کا نان و نفقہ پورا کرنا اور رہائش فراہم کرنا ضروری قرار دیا ہے، اور ایسا کرنے والوں کےلیے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔اسی طرح اللہ تعالی نے ان لوگوں کو عذاب و عقاب کا مستحق بتایا ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے اور ان کی خدمت اور ضروریات کی فراہمی میں کو تاہی برتتے ہیں۔

زوجین کے حقوق:

اللہ تعالٰی نے نکاح مشروع فرمایا ہے اور اس کی حکمت خود قرآن کریم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان اور واضح فرمائی ہے، جس میں چند مندرجہ ذیل ہیں:

نکاح سےعفت اور عصمت کی زندگی نصیب ہوتی ہے۔

حرام کاری اور بد فعلی (زنا لواطت) سے انسان محفوظ رہتا ہے. بد نگاہی سے انسان محفوظ رہتا ہے۔

نکاح کے بعد مرد و عورت دونوں کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زوجین کے درمیان الفت و محبت رکھیہے۔

مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک پاکیزہ معاشرہ ہو وجود میں آتا ہے۔

ازدواجی زندگی سے زوجین میں تقسیم کار ہو جاتا ہے، چنانچہ اور حمل و ولادت بچوں کی رضاعت، تربیت، صفائی ستھرائی کھانا پکانے وغیرہ جیسے امور کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ چنانچہ جب شوہر تھکا ماندہ ہوگھر میں داخل ہوتا ہے تو بیوی اس کے لیے اسباب راحت اور رائیت فراہم کرتی ہے اور وہ اپنے اہل و عیال سے مسرت و اطمینان محسوس کرتا ہے اور ساری تکان اور ہموم و غموم بھول جاتا ہے، اور اس طرح وہ گھرانہ مسرور و مطمئن نظر آتا ہے۔ اگر کوئی موزوں اور مناسب موقع و محل ہو تو عورت کے لیے کام کرنا اور گھر یلو اخراجات میں شوہر کا ہاتھ بٹانا جائز ہے، لیکن اس کے لیے،

مندرجہ ذیل شرط ہے.

عورت کی جائےعمل مردوں سے الگ تھلگ ہو،اس طورپر کہ باہمی اختلاط نہ پایا جائے، جیسے اپنے گھر کے اندر یا اپنے کسی باغ یا شوہر کے کسی فارم وغیرہ میں جہاں بالکل اختلاط نہ ہو اور جہاں اختلاط کیزہ معاشره ہو جیسے کارخانے، دکانیں ، دفاتر ، تو ایسی جگہوں پر قطعاً اسے کام کرنے کی اجازت نہیں، اور نہ اس کے شوہر یا والدین او رشتہ داروں کو حق ہے چانچی ہے کہ اس کی اجازت دیں، کیونکہ یہ خود فتنے میں پڑنےاور دوسروں کو اس میں مبتلا کرنےاور پورے معاشرے میں فساد برپا کرنے کے مترادف ہیں.

عورت جب تک اپنے گھر میں محفوظ اور پردہ نشین اور امن وامان میں رہتی ہے اس وقت تک بد بخت دست درازی نہیں کر پاتے اور گنگار اشخاص بد نگاہی نہیں کر سکتے لیکن اس کے برعکس جب عورت لوگوں کے درمیان نکل پڑتی ہے تو اپنا قیمتی سرمایہ عفت و عصمت کھو بیٹھتی ہے اور اس بکری کی طرح ہو جاتی ہے جو درندوں کے درمیان پھنس جائے پھر تھوڑی ہی دیر میں اس کی شرافت اور کرامت کے تانے بانے تار تار ہو جاتے ہیں اور وہ بد بخت افراد اس کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔

اہم موضوع

نماز کا بیان
اسلامی واقعات (قسط نمبر سات )
اسلامی واقعات (قسط نمبر آٹھ )