اسلام کا معاشرتی تعاون
اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ باہمی طور پر مالی اور معنوی تعاون کیا کریں. اسی طرح اس نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی ایذا رسانی سے منع فرمایا ہے خواہ کتنی ہی معمولی سی چیز کے ذریعہ ہو، جیسے راستوں یا سایہ والی جگہوں پر کوئی ناخواشگوار چیز ڈال دی جائے، اور ایسی تکلیف دہ چیزوں کو زائل کرنے پر اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، اور تکلیف دہ چیز رکھنے والے کو سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ دوسرے کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اور اسکے لیے وہ چیز نا پسند کرے جو خود اپنے لیے نا پسند کرتا ہے.
چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
(وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الاثر وَالْعُدْوَانِ)
المائده : (۳)
"ایک دوسرے کی مدد نیکی اور تقوے میں کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔"
مزید ارشاد ہے :
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ
(الحجرات : ١٠)
"بیشک مسلمان (آپس میں) بھائی بھائی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کرا دیا کرو۔"
نیز فرمایا :
(لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَنهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاح بَيْنَ النَّاسِ وَمَن میں يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ تُؤْتِيهِ أَجْراً نہیں عظيما)
(النساء : ۱۴)
"سرگوشیاں بہت سی ایسی ہیں جن میں کوئی بھلائی نہیں ہاں البتہ بھلائی یہ ہے کہ کوئی صدقہ کی ترغیب دے یا کسی اور نیک کام کی، یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی، اور جو کوئی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایسا کرے گا سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
" کوئی شخص مومن (کامل) نہیں ہو سکتا تا آنکہ اپنے بھائی کے
لیے وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے"(رواہ مسلم )
اس لئے آپ نے حج وداع کے عظیم خطبہ کے دوران جو آپ نے حیات طیبہ کے آخری دنوں میں دیا تھا اللہ تعالیٰ کے سابقہ احکام کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
" اے لوگو ! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارے جد امجد ایک ہیں، غور سے سنو ! کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت و فوقیت نہیں، نہ کسی عجمی کو عربی پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت حاصل ہے ، مگر تقویٰ کے ذریعہ، کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ؟ سبھی لوگوں نے کوئی بھائی کہا : آپ نے بحسن و خوبی پہنچا دیا ہے۔"
مزید ارشاد فرمایا :
" بیشک تمہارا خون اور تمہارے اموال اور تمہاری عزت و آبرو ایسے ہی حرام ہیں جس طرح اس ماہ کا آج کا یہ دن، اور تمہارے اس شہر میں کیا میں نے پہنچا نہیں دیا ؟ سبھی نے عرض کیا : ہاں، پھر آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ رہ-
اسلام نے ہمیں بنیادی ارکان تو بتایں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کے بارے میں، ماشرے میں رہنے کے طریقے بھی بتایں ہیں. آج کے دور میں مسلمان جس پستی کے دور سے گزر رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اسلام کے مختلف پہلوؤں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے. اگر ہم حقوق اللہ میں کوتاہی کریں تو ہو سکتا ہے کہا الله ہمین اپنی رہمت سے معاف کر دے، لیکن اگر ہم حقوق العباد میں کمی، کوتاہی کریںگے تو معافی اس وقت تک نہیں ملنی جب تک وہ شخس ہمیں معاف نہیں کرے گا، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے. اس لے ہمین پوری کوشش کرنی چایے کہ " حقوق اللہ "اور" حقوق العباد " دونوں پر پوری طرح عمل کریں .
