ads

وسیلہ کی حقیقت

وسیلہ کی حقیقت


وہ وسیلہ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اس ارشاد سے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے:

(وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ )

(المائده : ۳۵)

"اور اس تک وسیلہ تلاش کرو۔"

وہ توحید خالص اور اعمال صالحہ ہیں، جیسے نماز، روزہ، صدقہ، حج، جهاد، امر بالمعروف و نهی عن المنکر، اور صلہ رحمی وغیرہ۔

رہا مردوں سے مرادیں مانگنا اور مصیبتوں کے وقت ان سے فریاد طلب کرنا اور اس طرح کے سارے اعمال تو یہ غیر اللہ کی عبادت میں شامل ہیں۔

شفاعت کا بیان:

انبیاء کرام اور اولیاء اللہ اور دوسرے مسلمانوں کی شفاعت جب کہ اللہ تعالی ان کو اس کی اجازت دیں گے، ہم اس کے برحق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہ شفاعت مردوں سے طلب کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ صرف اللہ جل شانہ کا حق ہے اور یہ اسی کو حاصل ہوتا ہے نے اللہ تعالی اجازت مرحمت فرما دے۔

چنانچہ ایک صحیح العقیدہ موحد شخص اللہ تعالی سے شفاعت طلب کرتے ہوئے یوں کہے. "اے اللہ میرے بارے میں اپنے رسول اور صالح بندوں کی شفاعت قبول فرما" لیکن یہ ہرگز نہ کئے "اے فلال شخص ہمارے لئے سفارش کر دے " وغیرہ کیونکہ وہ مرچکا ہے اور مردے سے کبھی بھی کوئی چیز طلب نہیں کی جا سکتی، خود اللہ تعالٰی کاارشاد ہے:

(قُلْ لِلَّهِ الشَّفَعَةُ جَمِيعًا لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)

(الزمر : ۴۴)

''آپ کہہ دیجئے سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے ، اسی کی سلطنت آسمانوں اور زمین میں ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے.''

بعض وہ چیزیں جنہیں اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح احادیث میں ان کے ارتکاب سے منع فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ قبروں پر قبے تعمیر کرنا اور ان کو پختہ کرنا ان پر لکھنا، چراغاں کرنا اور چادریں چڑھانا اور مقبرہ میں نمازیں پڑھناہے۔ان سب چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی سے روکا ہے،کیونکہ ان ہی چیزوں سے قبر پرستی کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہاں پر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جو لوگ بعض قبروں اور درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں ان کا یہ عمل ایک طرح کا شرک باللہ ہے، جیسے مصر میں بدوی اور سیدہ زینب اور عراق میں شاہ عبد القادر جیلانی اور اہل ل بیت کی قبروں پر اس غرض و غایت سے حاضری دیتے ہیں کہ ان کی فریاد رسی ہوگی، مرادیں پوری ہوں گی ، بعض علاقوں میں تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ قبروں کا طواف کرتے ہیں، اور صاحب قبر کو نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں.

ظاہر ہے کہ ان کا یہ عقیدہ اور عمل انہیں گمراہ مشرکوں کی صف میں لے جاکر کھڑا کر دیتا ہے اگر چہ وہ مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہوں، نماز اور روزہ کی پابندی کرتے ہوں اور حج بیت اللہ سے فارغ ہو چکے ہوں اور کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اپنی زبانوں سے بار بار دہراتے ہوں کیونکہ جو لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے وہ اس وقت تک مومن حقیقی نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اس کے مفہوم و معافی کو نہیں سمجھے اور اس کے مطابق عمل صالح نہ کرے۔

البتہ غیر مسلم جب اس کلمہ توحید کا اقرار کر لیتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے تا آنکہ اس کے منافی کسی چیز کا ارتکاب کرلے جو اپنی سابقہ کفر و شرک کی زندگی میں کیا کرتا تھا، جس طرح یہ جا ہل لوگ کرتے ہیں۔ یا فرائض اسلام کو جان لینے کے بعد ان میں سے کسی چیز کا انکار کردے.

یا دین اسلام کے علاوہ کسی دین پر ایمان رکھے۔ انبیاء کرام، اور اولیاء اللہ، ان حضرات سے اپنی براءت و بیزاری کا ظہار کریں گے جو ان سے دعائیں مانگتے ہیں اور فریاد چاہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالٰی نے ان حضرات کو اس لیے مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ توحید خالص اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیں اور غیر اللہ کی عبادت سے خواہ وہ نبی ہو یا ولی منع کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت یا اولیاء اللہ سے عقید ت کے معنی یہ نہیں کہ ان کی عبادت کی جائے کیونکہ یہ تو ان سے عداوت ہے بلکہ ان سے صحیح عقیدت و محبت کا معیار یہ ہے کہ ان کی کمی دی کی جائے اور ان کے طریقہ پر چلا جائے، حقیقی مسلمان وہ ہے جو انبیاء کرام اوراولیاء عظام سے محبت تو کرتا ہے لیکن ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے وہ بھی ایسی محبت جو اپنے نفس،اہل وعیال اور سارے جہاں کی محبت سے زیادہ ہو۔

متعلقہ موضوع