اِسلام میں آزادی
فِکری آزادی:
اسلام نے آزادی فکر کی مکمل اجازت دی ہے. بشرطیکہ یہ آزادی فکر، اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہو. چنانچہ ایک مسلمان کو یہ حکم ہے کہ حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کرے. بلکہ اس کو بہترین جہاد کہا گیا ہے. اسی طرح اس کو حکم ہے کہ اپنے حکمرانوں کو خیر خواہی میں مشورہ دے اور اچھی باتوں کی صیحت کرے، اور بری چیزوں سے منع کرے، اور باطل کے علمبرداروں کی مخالفت کرے، ان کو اس سے باز رکھے، اور کسی کی رائے کو ملحوظ رکھنے کا یہ سب سے بہتر نظام ہے۔
رہے وہ افکار و نظریات جو اسلامی شریعت کے مخالف اور متصادم ہوں، تو ان کے اظہار کی بالکل اجازت نہیں، کیونکہ یہ سراسر فساد و تباہی اور حق کی بیخ کنی ہے۔
اِنفرادی آزادی:
اللہ تعالیٰ نے شریعت اسلامیہ کے حدود کے اندر رہتے ہوئے مسلمان کو شخصی و انفرادی آزادی دے رکھی ہے. چنانچہ ایک انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت اپنے تصرفات و معاملات میں پورا آزاد ہے. اور اس حریت کی بنا پر بیع و شراء، ہبہ وقف، عفو و در گذر، نیز شریک حیات کا انتخاب کرنے، اور دیگر بہت سے دینی و دنیاوی معاملات کا اختیار رکھتا ہے. اسے کوئی مجبور نہیں کر سکتا. البتہ عورت کسی ایسے مرد سے نکاح نہیں کر سکتی جو دین میں اس کے مساوی ہو نہ ہو، تاکہ اس کے عقیدے اور شرافت کی حفاظت ہو سکے، اور یہ پابندی خود اس کی اور اس کے خاندان کی بھلائی کے لیے ہے۔ عورت کا (ولی نسب کے اعتبار سے قریب ترین شخص یا اس کا نائب) ہی اس کے نکاح کے امور کا ذمہ دار ہوگا، کیونکہ عورت خود اپنا نکاح براہ راست نہیں کر سکتی، تاکہ راہ عورتوں سے مشابہ نہ ہو جائے. اور اس کی شرافت اور عصمت و عفت اور حیاد شرم پر آنچ نہ آئے، چنانچہ ولی ہونے والے شوہر سے کہے گا، کہ میں نے فلاں کا نکاح تم سے کر دیا، اور اس کے جواب میں دو گواہوں کی موجودگی میں وہ یہ کہے گا کہ میں نے قبول کیا۔
اسلام ایک مسلمان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ شرعی حدود و قوانین کی خلاف ورزی کرے، کیونکہ خود وہ اور ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اس لیے ان قوانین کے کے اندر رہتے ہوئے معاملات و تصرفات کرے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے باعث رحمت و سعادت بنایا ہے، جو ان پر عمل پیرا ہوا وہ ہدایت یاب اور کامیاب ہوا اور جس نے ان کی مخالفت کی وہ بد بخت و برباد ہوا اسی لیے اللہ تعالی نے زنا، لواطت، خود کشی اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے کو سختی سے حرام قرار دیا ہے۔
جہاں تک ٹائن ترشوانے، مونچھ کتروانے، زیر ناف حلق کرنے، بغل کے بال صاف کرنے، اور ختنہ کرانے کا تعلق ہے، تو وہ اس لیے انجام دیتا ہے، کہ اللہ تعالٰی نے اس کے کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
اسلام نے مسلمانوں کو اللہ کے دشمنوں سے ان چیزوں میں مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، جو ان کی خصوصیات کے قبیل سے ہوں، کیونکہ ظاہری طور پر تشبہ سے باطنی طور پر تعلق اور قلبی محبت پیدا ہو جاتی ہے. اور اللہ تعالیٰ ایک مسلمان ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ صحیح اسلامی فکر و نظر کا منبع ہو، مستورد انسانی افکار و نظریات کا مخزن نہ ہو. اسی طرح وہ دوسروں کے لیے نیک نمونہ ہو ان کا مقلد نہ ہو۔
اسی طرح اسلام نے مسلمانوں کو صنعتی تعمیر و ترقی، اور فنی ایجاد و اختراع، اور اعلیٰ علوم و فنون کے حاصل کرنے کا حکم دیا ہے. اور غیر مسلموں سے بھی استفادہ کرنے، اور سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں رکھا ہے، کیونکہ اللہ تعالی ہی انسان کا معلم حقیقی ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے:
عَلَى الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
"انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو وہ نہیں جانتا تھا۔"
العلق : (۵)
اور انسان کی انفرادی آزادی سے فائدہ اٹھانے، اس کی کرامت کو محفوظ رکھنے، اور خود اس کے اور دوسروں کے شرسے بچانے میں انسان کی اصلاح اور خیر خواہی کا یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے۔
رہائشی آزادی:
اللہ تعالی نے مسلمان کو گھر کے اندر رہنے کے وقت آزاد رکھا ہے، چنانچہ کسی دوسرے شخص کو بغیر اس کی اجازت کے گھر میں جھانکنے یا داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
معاشی آزادی:
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تلاش معاش اور اس کے انفاق کے سلسلہ میں شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے آزاد رکھا ہے، چنانچہ اسے کام کرنے، کمانے، اور محنت و مزدوری کرنے کا حکم دیا ہے. تاکہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی کفالت کر سکے. مزید برآں خیر و احسان کے راستہ میں خرچ کرے. بایں ہمہ دوسری جانب حرام کمائی جیسے سود، جوا، رشوت، چوری، جادو ٹونا کی اجرت، شراب فروشی، زنا، لواطت، جاندار کی فوٹو گرافی، آلات لہو و لعب کی کمائی، اور رقص و سرود سے حاصل کردہ تمام رقومات، اور مال و دولت کو حرام قرار دیا ہے، اور جس طرح ان راستوں سے کمانا حرام کیا ہے، اسی طرح ان راستوں میں تعاون کرنا بھی حرام فرمایا ہے. لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف کار خیر اور جائز مصرف میں خرچ کرے۔
یہ انسان کے لیے کمانے اور خرچ کرنے کے معاملہ میں ہدایت و خیر خواہی اور اصلاح کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، تاکہ حلال کمائی کے ذریعہ وہ مالدار ہو کر خوشحال زندگی گزار سکے۔
