ads

ایمان کا بیان

ایمان کا بیان

ایمان کا بیان

مسلمانوں کے لیے ارکان اسلام پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ کئ اہم عقیدے بھی ہیں، کہ ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے. جیسے فرشتوں اورآسمانی کتابوں پر بھی ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے. جس سلسلہ کی آخری کتاب قرآن کریم ہے جو تمام آسمانی کتابوں کی ناسخ ہے. اگر ان میں سے کسی ایک پر ایمان نہ ہو تو دائرہ اسلام سے خارج ہو جاے گا.

رسولوں اپر ایمان

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بھی حکم فرمایا کہ وہ سارے انبیاء کرام اور رسولوں پر ایمان لے آئیں، کیونکہ سبھی کی دعورت ایک، اور دین ایک ہے. اور وہ دین اسلام ہے. لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں ہوا ہے کہ وہ اللہ کے رسول تھے، جو اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، اور اس کے ساتھ ہی یہ ایمان و یقین رکھے کہ  آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں، جن کو ساری انسانیت کی طرف رسول بنا کر اللہ نے مبعوث فرمایا ہے، اور ساری انسانیت حتّٰی کہ یہود و نصاریٰ آپ کی امت کے ایک فرد ہیں، اور ساری سر زمین کے لوگ آپ کی اتباع اور آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کے مکلف ہیں. حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور سارے انبیاء ان لوگوں سے اظہار براء ت کر دیں گے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام پر ایمان نہ لائیں، مسلمان تمام انبیاء کرام پر ایمان لانا اپنے ایمان کا جزء تصور کرتا ہے. اور جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے اور آپ کی پیروی نہ کرے اور دین اسلام پر ایمان و یقین نہ رکھے وہ در حقیقت سارے انبیاء کرام کا منکر ہے. اگرچہ اپنے کو کسی ایک نبی کا پیروکار کہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

"قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی اسے میری بعثت کی اطلاع ہوئی ہو اور میری رسالت و شریعت ایمان لائے بغیر مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا"

(رواہ مسلم)

یوم آخرت پر ایمان

اسی طرح ہر مسلمان کے لیے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب و کتاب، جزا و سزا، جنت و جہنم، یعنی یوم آخرت کی ہر چیز پر ایمان لانا ضروری ہے۔

قضاء و قدر پر ایمان

قضاء و قدر پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، اور تقدیر پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی کو کاینات کی ہر چیز اور بندوں کے سارے اعمال کا آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے علم ہے، اور یہ ساری معلومات اس کے پاس لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں، اور ایک مسلمان کو اس کا بھی علم ہونا چاہیے کہ اللہ نے جس چیز کو چاہا وہ ہو گئی اور جس چیز کو اس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوئی اور اس نے بندوں کو اپنی عبادت و اطاعت کے لیے پیدا فرمایا ہے. اور اس کے طریقوں کو واضح فرما دیا ہے. اور اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، اور اسی طرح سے اپنی معصیت سے منع کیا ہے اور اس کی بھی نشاندہی فرما دی ہے. اور انسانوں کو قدرت اور ارادہ کی صلاحیت دی ہے، جس کے ذریعہ وہ اللہ تعالی کے فرامین کی بجا آوری کرسکیں، تاکہ اجر و ثواب سے نوازے جائیں، اور جس نے اس کی نافرمانی کی اور گناہوں کا مرتکب ہوا وہ سزا و عذاب کا مستحق ہو گا. اور بندوں کی مشیت و طاقت اللہ تعالٰی کی مشیت کے تابع ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی بندے کرتے ہیں۔

جہاں تک ان چیزوں کا تعلق ہے جن میں بندوں کی مشیت و اختیار کا کوئی دخل نہیں اور ان کا ہونا ناگریز ہوتا ہے. اور انسان کے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں. جیسے بھولنا، غلطی کرنا، بیماری، غریبی، مصیبتوں سے دوچار ہونا، زبردستی کرائی گئی چیز، تو ان جیسی تمام چیزوں پر اللہ تعالی کی طرف سے انسان پر کوئی گرفت نہیں اور نہ کسی طرح کی سزا وعذاب ہے. بلکہ فقر و فاقہ اور مصیبتوں پر بندہ جب صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے، اور اللہ کے فیصلہ پر راضی رہتا ہے، تو اللہ تعالی اسے اجر و ثواب سے نوازتا ہے۔

مسلمانوں میں سب سے زیادہ راسخ العقیدہ اور پختہ ایمان والے اور اللہ تعالیٰ سے قربت رکھنے والے اور جنت میں بڑے مرتبہ والے محسنین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت اور خوف خشیت اور تعظیم و توقیر کرتے ہیں. گویا کہ وہ لوگ اسے دیکھ رہے ہوں اور اس کی کسی طرح کی معصیت نہیں کرتے ان کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہوتا ہے. اور اگر یہ کیفیت نہیں ہو پاتی تو کم سے کم اس کا استحضار رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے، اور ان کے اقوال و افعال اور نیتوں میں سے کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے، چنانچہ اس کی اطاعت سے سرشار اور اس کی نافرمانی سے کنارہ کش رہتے ہیں، اور جب ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو توبہ و استغفار میں جلدی کرتے ہیں اور اپنے گناہوں پر ندامت اور آئندہ کبھی نہ کرنے کا عزم کرتے ہیں.

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُم تُحْسِنُونَ

(النحل : ۲۸)

"بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو لوگ کہ حسن سلوک کرتے رہتے ہیں۔"

درج بالا عقیدوں پر ایمان لانا مسلمان کے لے نہایت ضروری ہے. ان عقیدوں کا علیحدہ علیحدہ تفصیلی بیان بھی ہوگا.

الله ہم سب کو دن اسلام سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ

آمین!