ads

اسلام کا نظام حفظان صحت

اسلام کا نظام حفظان صحت

اسلامی شریعت نے تمام زریں طبی اصول و ضوابط بتا دیئے ہیں، چنانچہ قرآن کریم نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں نفسیاتی اور جسمانی امراض کی تشخیص اور اس کے مادی اور روحانی علاج کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(وَنُنَزِلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ )

(الاسراء : (۸۲)

"اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"اللہ تعالیٰ جب کوئی بیماری نازل کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل فرماتا ہے، تو کچھ لوگ اس کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں اور کچھ لوگ اس سے ناواقف رہتے ہیں"

ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے:

"اے اللہ کے بندو ! علاج معالجہ کیا کرو اور خبردار ! حرام چیزوں سے علاج نہ کیا کرو"

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "زاد المعاد" میں طب نبوی کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ اسلام اور خاتم المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بیان میں یہ جامع ترین، صحیح اور مفید ترین کتابوں میں سے ہے۔

اسلام کا معاشی نظام:

اسلام نے انسانی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان تمام چیزوں کی بخوبی وضاحت کر دی ہے جو ایک شخص کو اپنی شہری زندگی کے لیے درپیش ہوتی ہیں، جیسے غذائی اشیاء کی فراہمی، خدمات عامہ کا نظم و نسق، اداری و تنظیمی امور کی ترتیب، نقل و حمل کے وسائل کا بندوبست، تجارتی معاملات کے اصول و ضوابط، صنعتی استحکام کے اسباب کا انتظام، اور زراعتی ترقی، اور خود کفالت کے اقدامات، دھوکہ اور چور بازاری کا سد باب اور اس جیسے دیگر معاملات جن کی ایک انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔

دشمنوں سے حفاظت کا طریقہ:

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مسلمانوں کے دشمنوں کی نشاندہی کر دی ہے جو ان کے دینی و دنیاوی ہلاکت کے سبب بنتے ہیں، چنانچہ ان سے بچنے اور ان کے شروفتن سے محفوظ رہنے کا طریقہ بیان فرما دیا ہے، 

اور وہ دشمن یہ ہیں:

دشمن اول: شیطان لعین ہے جو انسان کا اولین حاسد اور دشمن ہے وہی دوسرے سارے دشمنوں کو انسان کے خلاف اکساتا اور بھڑکاتا ہے اور اسی نے ہمارے ماں باپ حضرت آدم و حوا کو جنت سے نکلوایا اور قیامت تک ان کی ذریت کا دائمی دشمن ہو گیا، یہ پوری جانفشانی سے کوشش کرتا ہے کہ انسان کو بہکا کر کفر و شرک میں مبتلا کر دے تاکہ نعوذ باللہ وہ اس کے ساتھ جہنم میں جائیں.

اور جو شخص اس کے کفرو شرک میں نہیں پھنستا تو اسے گناہوں اور برائیوں کے دلدل میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب و عقاب سے دو چار ہو، شیطان رجیم ایسی مخلوق ہے جو انسان کے رگو پے میں دوڑتا اور اثرانداز ہوتا ہے، اس کو وسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور برائیوں کی ملمع سازی کر کے خوشنما انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ انسان دھوکہ کھا بیٹھے.

شیطان کے کید و مکر سے بچنے اور محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے خود بیان فرمایا ہے کہ جب کوئی مسلمان میں آئے یا کسی گناہ کا ارادہ کرے تو "اعوذ بالله من الشيطان الرجیم" (میں شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) کہے اور غصہ پر عمل اور گناہ کا ارتکاب نہ کرے اور یہ سمجھے کہ اس گناہ پر آمادہ کرنے اس کا ازلی دشمن شیطان رجیم ہے جو اس کی ہلاکت کے درپے ہے. پھر اس سے اپنی براءت و نفرت کا اظہار کرے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوا إِنَّمَا يَدْعُوا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ

(فاطر : (۲)

"بیشک یہ شیطان تمہارا دشمن ہے، سو تم اسے دشمن ہی سمجھتے رہو، وہ تو اپنے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے کہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہو جائیں۔"

دشمن دوم : نفسانی خواہشات ہیں، جن کی بنا پر انسان حق کا انکار اور اس کو مسترد کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، اور اپنی خواہشات نفسانی کے خلاف احکام الہی اور شریعت اسلامیہ کو بھی مسترد کر دیتا ہے، جذبات کو حق و انصاف پر ترجیح دینا بھی نفسانی خواہشات میں سے ہے۔

چنانچہ اس دشمن سے حفاظت اور نجات کا طریقہ یہ ہے کہ اتباع نفس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے اور نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرے، بلکہ حق اور ہدایت کو قبول کرے اور اس کے تقاضوں پر عملپیرا ہو اگرچہ اس میں کئی تلخی اور دشواری محسوس کرے نیز شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔

دشمن سوم: نفس امارہ ہے جو انسان کو ہمیشہ برائیوں پر اکساتا اور آمادہ کرتا ہے۔

کبھی کبھی انسان اپنے دل میں جو ناجائز خواہشات پاتا ہے، مثلاً زناکاری یا شراب نوشی، یا بلا عذر رمضان کا روزہ نہ رکھنے، یا اس جیسے دیگر گناہ کی خواہش جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے، یہ سب اسی نفس امارہکی جانب سے ہوتا ہے۔

اس چھپے ہوئے دشمن کے مکر و فریب سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس اور شیطان کے شروفتن سے اللہ تعالٰی کی پناہ طلب کرے اور ان حرام کردہ شہوانی چیزوں کے ارتکاب سے پر ہیز کرے اور رضائے الہی کے پیش نظر ان گناہوں سے مکمل اعراض کرے، جس طرح خواہش کے باوجود نقصان دہ چیزوں کے کھانے پینے سے پر ہیز کرتا ہے، اور یہ ذہن میں رکھے کہ یہ ناجائز خواہشات عنقریب فنا ہو جائیں گی اور اس کے بعد حسرت اور مستقل ندامت سے دو چار ہونا پڑے گا.

د شمن چهارم: انسان نما شیطان ہیں، اور یہ وہ گنہگار لوگ ہیں جو شیطان رجیم کے آلہ کار اور اس کے مددگار ہیں، جو گناہوں کے پیروکار ہیں اور اپنے ہم نشینوں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں، چنانچہ ان کی مجلس سے دور اور پر حذر رہ کر شروفتن سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

متعلقہ موضوع

دین اسلام کی معرفت
اسلامی واقعات (دوسری قسط)
حج کی قسمیں