مسلمان کا مقصد حیات
وہ اعلیٰ اور عظیم الشان اغراض و مقاصد جن کے لیے اللہ تعالی نے حضرت انسان کو پیدا فرمایا ہے، وہ دنیا کی زوال پذیر زیب و زینت اور اس میں عیش و عشرت نہیں، بلکہ اس حقیقی اور ہمیشہ ہمیش باقی اور قائم و دائم رہنے والے مستقبل کی تیاری ہے جو مرنے کے بعد نصیب ہو گا جسے ہم آخرت کی زندگی کہتے ہیں۔
چنانچہ ایک سچا وپکا مسلمان دنیوی زندگی کو اخروی زندگی تک پہنچنے کا وسیلہ، اور اس کی کھیتی تصور کرتا ہے. اور اس کو بذات خود مقصود حقیقی نہیں سمجھتا وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کو پیش نظر رکھتا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(الذاريات : ۵۲)
"میں نے جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔"
اور ارشاد ہے:
یاایھا الذين امنوا اتَّقُوا اللهَ وَلَتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قدمت لمد والقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَيْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ) ولا تكونوا كالذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَانسَهُمْ أَنفُسَهُمْ أَوْلَيكَ هُمُ القَسِقُونَ لَا يَستَوى أَصْحَبُ النَّارِ وَأَصْحَبُ الجنة أَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَابِرُونَ
(الحشر: ۱۸-۲۰)
"اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو، اور ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو. بیشک اللہ کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، سو اللہ نے خود ان کی جانوں کو ان سے بھلا دیا، یہی لوگ تو نافرمان ہیں، اہل دوزخ اور اہل جنت برابر نہیں ہو سکتے، اور اہل جنت تو کامیاب لوگ ہیں۔"
دوسری جگہ ارشاد ہے:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَر وَ شَرَا يَرَهُ
(الزلزله : ۸۷)
"سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جس کسی نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا۔"
مومن صادق ان جیسی تمام آیتوں پر غور و فکر کرتا ہے، جن میں اللہ تعالٰی نے انسان کی پیدائش کے اغراض و مقاصد بیان فرمائے ہیں، اور اس کے حقیقی مستقبل اور اصلی ٹھکانے کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کے منتظر ہیں.
چنانچہ مرد مومن اس حقیقی مستقبل کی تیاری میں اللہ تعالٰی کی عبادت اور اس کی مرضیات پر چلنے میں مصروف ہو جاتا ہے، تاکہ دنیا میں رضائے الہی اور آخرت میں جنت کا مستحق ہو،
چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں اطمینان بخش زندگی نصیب کرتا ہے، وہ اللہ کی حفاظت میں رہتا، اور اللہ کے نور سے دیکھتا، اور اس کی عبادات و مناجات سے لطف اندوز ہوتا ہے، اور اللہ کے ذکر سے اپنے دل و دماغ کو تقویت بخش ہے. لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے، تو لوگوں کی نیک تمناؤں، اور دلی دعاؤں سے مشرف ہوتا ہے جس سے اس کو مزید خوشی اور انشراح قلب حاصل ہوتا ہے۔
دوسری طرف بعض لوگوں کی جانب سے احسان فراموشی دیکھتا ہے تو بھی وہ اپنی کرم فرمائی سے باز نہیں آتا کیونکہ اس کا مقصد رضائے الہی اور اجر و ثواب کا حصول ہوتا ہے، اسی طرح بعض اسلام دشمنوں کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کے در پے آزار ہیں تو اسے انبیاء کرام کی سنت تصور کرتا ہے، اور اسلام سے محبت اور سنت و شریعت پر استقامت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے.
اسی طرح مرد مومن کسب حلال کے لیے محنت ومشقت کرتا ہے. چنانچہ وہ دفتر، یا دکان، یا کارخانے، یا کھیتی باڑی میں پوری محنت اور یکسوئی سے کام کرتا ہے. تاکہ اپنے انتاج سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے اور قیامت کے دن اپنے اخلاص اور نیک نیتی پر اجر و ثواب کا مستحق ہو. اور اس سے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرے، اور فقراء و مساکین پر خیرات و صدقات کرے، اور اس طرح سے شریفانہ اور قناعت و بے نیازی کی زندگی گزارے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قوی اور کام کرنے والا مومن زیادہ پسندیدہ ہے۔
اسی طرح وہ فضول خرچی کئے بغیر کھاتا، پیتا، اور سوتا ہے. تاکہ اللہ تعالٰی کی عبادت کے لیے قوت حاصل کرے. وہ اپنی بیوی سے ملتا ہے تاکہ اسے اور اپنے آپ کو بھی محرمات سے محفوظ رکھے. اور ایسی اولاد پیدا کرے جو اللہ تعالی کی عبادت و اطاعت کریں. اور اس کے لیے صدقہ جاریہ ہوں اور امت محمدیہ میں اضافہ ہو. اور اس طرح وہ عند اللہ اجر و ثواب کا سزاوار ہو۔
مسلمان اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے اور اس سے عبادت میں تقویت حاصل کرتا ہے اور اسے صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تصور کرتا ہے، جس پر اس کو مزید نعمت دی جاتی ہے اور اجر و ثواب سے ہم کنار ہوتا ہے۔
دوسری طرف جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، جیسے فقر و فاقہ، خوف و مرض وغیرہ، تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی آزمائش سمجھتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ قضا و قدر پر اس کے صبرو رضا کی صلاحیت دیکھ لے. حالانکہ اللہ تعالی ان تمام چیزوں سے باخبر ہے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امرونسی کے ذریعہ مکلف کرتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کون اطاعت گزار ہے، اور کون گنگار ہے. تاکہ یہ علم ظاہر ہو جائے اور ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے اور گنگار یہ نہ کہے کہ اللہ نے بغیر گناہ کئے مجھ کو سزا دے کر ظلم کیا ہے؟
چنانچہ مرد مومن صبر کرتا ہے، اور رضائے الہی کو مد نظر رکھ کر اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کرتا ہے، تاکہ اس اجر و ثواب کا مستحق ہو جائے جو اللہ تعالٰی نے صابرین کے لیے رکھا ہے. اور اس طرح سے مصیبت اس کے لیے آسان ہو جاتی ہے، اور اس کو وہ بڑی خندہ پیشانی سے جھیل جاتا ہے، جس طرح کوئی مریض تلخ دوا شفا کے حصول کے پیش نظر نوش کر لیتا ہے.
اگر کوئی مرد مومن اپنی زندگی کو اس نہج پر ڈحال لے جس طرح اللہ تعالی نے تعلیم دی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمایا ہے، تو وہ"حیات سعیدہ" سے مشرف ہو جائے گا. جسے کوئی تلخی مکدر نہیں کر سکے گی. اور نہ موت ہی اس سے منقطع کرے کی اور یقینا وہ سعادت دارین سے ہم کنار ہو گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالعَقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ) (القصص : ۸۳)
"یہ عالم آخرت تو ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کر دیتے ہیں جو زمین پر نہ بڑا بننا چاہتے ہیں نہ فساد کرنا اور انجام (نیک) تو متقیوں ہی کا (حصہ) ہے۔"
مزید فرمایا:
مَنْ عَمِلَ صَلِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوَةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(النحل: 92)
"نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا مرد ہو یا عورت بشر طیکہ صاحب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اور ہم انہیں ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ضرور اجر دیں گے۔"
آیت کریمہ کی تشریح:
اس آیت کریمہ میں اور اس جیسی تمام آیات میں اللہ تعالی یہ جتانا چاہتا ہے، کہ وہ انسان صالح کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ان تمام اعمال صالحہ پر بہترین صلہ اور اجر و ثواب دے گا. جو اس کے مرضیات کے حصول کے لئے کیا جائے، اور یہ صلہ اللہ تعالیٰ دنیا میں باسعادت زندگی عطا کر کے دے دیتا ہے، اور آخرت میں جنت کی نعمتوں سے جو کہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہیں، ان سے سرفراز فرمائے گا۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
"مومن کا معاملہ عجیب و غریب طور پر خیر ہی خیر ہے، اگر اسے خوش کن بات پہنچتی ہے تو شکر ادا کرتا ہے جو اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے، اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے جو اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے"
مذکورہ تفصیلات سے یہ اندازہ ہوتا ہے، کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو فکر سلیم کا علمبردار اور اچھے اور برے کا سچا معیار ہے، اور وہ اور ہم مکمل اور معتدل دستور حیات ہے. اور اس کے علاوہ تمام سیاسی و معاشی و معاشرتی اور تربیتی نظام حیات ناقص اور ناکام ہیں، اور ان تمام نظاموں کو اسلامی کسوٹی پر پرکھنا اور اس کی روشنی میں ان کی تصحیح کرنا چاہیئے. اور سارے اصول و ضوابط اور دستور وضع کرنے اور اختیار کرنے سے پہلے ان کا سر چشمہ اسلام کو بنانا چاہیئے. اس کے بغیر اس دستور کی کامیابی ناممکن اور محال ہے، بلکہ اپنانے والوں کے لیے دنیا و آخرت کی بد بختی کا سبب بھی ہے۔
