ads

اسلامی واقعات (قسط نمبر تیرہ)

اسلامی واقعات (قسط نمبر تیرہ)

اسلامی واقعات (قسط نمبر تیرہ)

عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا خوف خدا

حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کی اہلیہ محترمہ فاطمہ بنت عبدالملک سے حضرت عمر رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت کا حال دریافت کیا گیا تو کہ اللہ کی قسم وہ لوگوں سے زیادہ نماز، روزہ تو نہیں ادا کرتے تھے. لیکن اللہ کی قسم ! میں نے ان سے بڑھ کر کسی کواللہ تعالیٰ کے خوف سے کانپتے نہیں دیکھا.

وہ بستر پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو خوف خدا وندی کی وجہ سے چڑیا کی طرح پھڑ پھڑانے لگتے. یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوتا کہ ان کا دم گھٹ جائے گا. اور لوگ صبح کو اٹھیں گے. تو خلیفہ سے محروم ہوں گے.

ایک رات عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ”سورۃ اللیل“ پڑھ رہے تھے. جب اس آیت پر پہنچے... فانذرتكم نارا تلظى ...

ترجمہ ... "پس میں نے تم کو ڈرا دیا بھڑکتی ہوئی آگ سے"

تو ہچکی بندھ گئی، دم گھٹ گیا، آگے نہیں پڑھ سکے. دوبارہ نئے سرے سے شروع کی. جب اسی آیت پر پہنچے تو پھر وہی کیفیت ہوئی اور آگے نہیں بڑھ سکے. بالآخر یہ سورت چھوڑ کر دوسری سورت پڑھی. غرض یہ کہ کتنا خوف خداوندی تھا ان میں …

اللہ تعالیٰ ہم میں بھی پیدا فرما دے ... آمین ثم آمین!

امام طاؤس رحمہ اللہ سے حجاج بن یوسف کی ملاقات کا واقعہ

امام طاؤس بن کیسان کہتے ہیں ایک سال میں مکہ المکرمہ میں مقیم تھا، مشہور زمانہ امیر حجاج بن یوسف حج ادا کرنے مکتہ المکرمہ آیا اور حرم شریف میں بیٹھ کر اپنے کارندے کو یہ پیام دیگر میرے ہاں روانہ کیا کہ امیر المومنین حجاج بن یوسف آپ کو طلب کرتے ہیں.

میں نے اس کی طلبی قبول کی اور اسکے پاس آ گیا۔ حجاج نے میرا اکرام کیا اور اپنے قریب بٹھا لیا اور ایک شاہی تکیہ بھی پیش کیا تا کہ میں اس کا سہارلوں، پھر اس نے چند مسائل دریافت کئے جس کو جاننا چاہتا تھا.

اس درمیان ایک حاجی لبیک اللھم لبیک کہتا ہوا قریب سے گزرا جس کی آواز میں کچھ ایسا ارتعاش وسوز تھا کہ سننے والوں کے دل پھٹے جارہے تھے.

حجاج نے اپنے آدمی سے کہا ذ ر اس حاجی کو لے آؤ؟ جب وہ آیا تو پوچھا تم کون ہو؟

حاجی نے کہا ... میں ایک مسلمان ہوں ...

حاجی نے کہا... ملک یمن کا باشندہ ہوں ...

حجاج نے کہا میرا یہ مطلب نہیں میں جانتا ہوں کہ تم کے ہو؟

حاجی نے کہا … ملک یمن کا باشندہ ہوں…

حجاج نے جب یہ سنا تو پوچھا تمہارے ملک کے حاکم کا کیا حال ہے؟

( ملک یمن کا یہ حاکم حجاج بن یوسف کا چھوٹا بھائی محمد بن یوسف تھا جس کو حجاج نے حاکم میمن بنایا تھا)

حاجی نے کہا ... وہ تر و تازہ فربہ جسم خوش لباس نو جوان آدمی ہے …

حجاج نے کہا ... میرا سوال اس کی صحت کے بارے میں نہیں ہے میں اس کے عادات واطوار معلوم کرنا چاہتا ہوں؟

حاجی نے کہا... وہ نہایت ظلم و زیادتی کرنے والا ... بندہ نفس ... اپنے خالق کا ناشکرا فسق و فجور کا شیدا انسان ہے ... اس کو اپنی رعایا سے کیا تعلق اپنا عیش ولطف ہی مقصود ہے …

حجاج اپنے ہم نشینوں اور حاجیوں کے ہجوم میں حرم شریف کے اندر اپنے بھائی کا یہ مکروہ تذکرہ سن کر سخت نادم ہوا اور اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا ... پھر سنبھل کر کہا اے شخص تیری یہ جرات کیونکر ہوئی کہ تو میری موجودگی میں علی الاعلان اس کی برائی بیان کرے ... جب کہ تجھ کو معلوم ہے کہ وہ میرا عزیز بھائی... پسندیدہ شخصیت و با عزت حاکم بھی ہے؟

حاجی نے برجستہ جواب دیا. وہ آپ کے یہاں اتنا با عزت نہیں جیسا کہ میں اپنے اس رب کے سامنے باعزت ہوں ... جبکہ میں اس کے باعزت گھر کا طواف کر رہا ہوں اور اس کی ندا پر لبیک اللھم لبیک کہہ رہا ہوں اور فریضہ حج ادا کر رہا ہوں ....

یہ تلخ تند کلام سن کر حجاج خاموش ہو گیا اور وہ حاجی ہجوم میں داخل ہوگیا.

امام طاؤس بن کیسان کہتے ہیں کہ اس کی یہ حوصلہ مندی اور بے خوفی دیکھ کر میں نے دل میں کہا کہ یہ کوئی غیر معمولی انسان ہے اس کا تعارف لینا چاہئے، تیزی سے میں اس کے پیچھے گیا۔ دیکھا کہ وہ غلاف کعبہ تھامے اپنا چہرہ اس کو لگائے یہ کلمات کہہ رہا ہے …

اللهم بك اعوذ وبجنا بک الوذ

ترجمہ: "اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور آپ کی جناب میں حفاظت بھی"

اس طرح وہ کچھ دعائیں پڑھ کر حاجیوں کے ہجوم میں نظروں سے غائب ہو گیا... مجھے کو اس کا شدید احساس ہوا کہ اس سے ملاقات نہ ہو سکی اور امید بھی نہ رہی کہ پھر ملاقات ہوگی ... عجیب بات ہے کہ وہ عرفہ کی رات ہجوم میں پھر نظر آیا .... میں اس کے قریب پہنچ گیا وہ دعا میں مشغول تھا... اس کے یہ کلمات میں نے سنے.

اللہ! اگر آپ میرے حج اور میرے عمرے اور میری بیت اللہ حاضری کو قبول نہ فرمائیں تو میری زحمت و مشقت کے اجر سے مجھ کو محروم نہ فرما...

یہ کہہ کر وہ شخص پھر ہجوم میں غائب ہو گیا اور میں ہاتھ ملتا رہ گیا... (تذکرۃ التابعین )

ختم نبوت کے لئے بیٹے کی قربانی

"آپ کا بیٹا بس آج شام تک کا مہمان ہے، اس کا کوئی علاج نہیں."

ڈاکٹر کے یہ الفاظ سن کر مولانا رو پڑے اپنے بیٹے کو گھر لے آئے گھر میں کھڑے اپنے بیٹے کی تیمارداری کر رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ مولا نا دروازے پر گئے.

باہر ایک بوڑھے شخص کو کھڑے پایا. حضرت نے سلام و دعا کے بعد پوچھا بابا جی! خیریت سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگا خیریت سے کہاں آیا ہوں ہمارے علاقے میں ایک قادیانی مبلغ آیا ہوا ہے وہ لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے. پوری امت گمراہ ہورہی ہے اور آپ گھر میں کھڑے ہیں.

مولانا نے جیسے ہی یہ بات سنی آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے. بیوی سے فرمایا بی بی! میرا بیگ کہاں ہے؟ بیوی نے بیگ اٹھا کر دیا اور آپ بیگ ہاتھ میں پکڑے گھر سے روانہ ہونے لگے. بیوی نے دامن پکڑ لیا اور کہنے لگی، مولانا! آخری لمحات میں اپنے نوجوان بیٹے کو اس حالت میں چھوڑ کر جارہے ہو؟ مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھا ئیں اور رو کر روانہ ہونے لگے تو جاں بلب بیٹے نے کہا ابا جان! میں آج کا مہمان ہوں چند لمحے تو انتظار کر لیجئے، میری روح نکل رہی ہے، مجھے اس حال میں چھوڑ کر جارہے ہو؟

مولانا نے اپنے نوجوان بیٹے کو بوسہ دیا، رونے لگے، اور فرمایا! اے بیٹے بات یہ ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خاطر جارہا ہوں. کل قیامت کے دن حوض کوثر پر ہماری تمہاری ملاقات ہو جائے گی.

یہ فرمایا اور گھر سے روانہ ہو گئے. اڈے پر پہنچے ابھی بس میں بیٹھے ہی تھے کہ چندو آئے اور کہنے لگے کہ مولا نا ! آپ کا بیٹا فوت ہو چکا ہے. اس کا جنازہ پڑھاتے جائیے. مولانا نے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور روکر فرمانے لگے. جنازہ پڑھانا فرض کفایہ ہے اور امت محمدیہ کو گمراہی سے بچانا فرض عین ہے. فرض عین چھوڑ کر فرض کفایہ کی طرف نہیں جاسکتا.

پھر وہاں سے روانہ ہو گئے اس علاقے میں پہنچے اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی وہ قادیانی مبلغ بھاگ گیا.

مولا نا تین دن کے بعد گھر واپس پہنچے. بیوی قدموں میں گر گئی اور رو کر کہنے لگی، مولا نا! جب آپ جارہے تھے تو بیٹا آپ کی راہ تکتارہا اور کہتا رہا جب ابا جان واپس آجا ئیں تو انہیں میر اسلام عرض کر دینا. مولانا نے جب یہ سنا تو فوراً اپنے بیٹے کی قبر پر گئے اور دعا مانگنے لگے، اے اللہ! ختم نبوت کے وسیلے سے میرے بیٹے کی قبر کو جنت کا باغ بنا دے. مولا نا دُعا مانگ کر گھر واپس آئے تو رات بیٹے کو خواب میں دیکھا، بیٹے نے اپنے ابا سے ملاقات کی اور کہا ربِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم! ختم نبوت کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ نے میری قبر کو جنت کا باغ بنادیا ہے، ختم نبوت کے اس مجاہد کو دنیا مولا نا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے.

(بشکریہ ماہنامہ تذکر دارالعلوم کیر والا)

متعلقہ موضوعات

 اسلامی واقعات (تیسری قسط )

اسلامی وا قعات (قسط نمبر چار)

اسلامی واقعات (قسط نمبر پانچ)