ads

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت

 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت

اللہ رب العزت وہ ذات پاک ہے جس نے تم کو پیدا فرمایا پھر تم کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور تمہارے نیک و بد اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا تو اس کے بعد اس کا بھی ایمان و یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی نے سارے لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنا رسول بھیجا ہے، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے اور اس کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ صحیح اور درست عبادت و اطاعت کی معرفت اسی رسول کے اتباع کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہے اور اللہ کی شریعت پر اسی وقت عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے اور اس کی عبادت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے جب اس کی کامل ترین اطاعت کی جائے، اور یہ رسول کریم جن پر ایمان لانا اور ان کا اتباع کرنا ہر شخص پر واجب ہے وہ خاتم المرسلین اور تمام لوگوں کی طرف اللہ کے بھیجے ہوئے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں، جن کی بعثت کی بشارت حضرت موسیٰ اورحضرت عیسی نے اپنے اپنے زمانے میں دی تھی جس کا تذکرہ تورات و انجیل میں چالیس سے زائد جگہوں پر آیا ہے اور جس کو یہودی اور عیسائی تورات و انجیل میں تحریف سے قبل پڑھتے پڑھاتے تھے۔

ولادت با سعادت:

یہ پیارے نبی جو خاتم الانبیاء اور ساری انسانیت کی طرف منصب نبوت و رسالت سے مشرف کر کے مبعوث کئے گئے ہیں ان کا نام نامی اور نسب گرامی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الھاشمی القرشی ہے۔ جو روئے زمین پر سب سے شریف قبیلہ کے سب سے سچے اور شریف شخص ہیں جن کا شجرہ نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیما السلام سے جاملتا ہے۔

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ مکرمہ میں ۵۷۰ء میں پیدا ہوئے، آپ نے جس شب آنکھ کھولی، آپ کے پیدا ہوتے ہی ایک عظیم نور سے پوری کائنات روشن ہو گئی ، جس سے لوگ ڈر گئے، کتب تاریخ میں یہ واقعہ نوٹ کیا گیا اور قریش کے صنم خانوں میں انقلاب برپا ہو گیا، تراشیدہ بہت اوندھے منہ گر پڑے اور قیصر و کسریٰ کے ایوان ہل گئے، اور دس سے زائد قندیلیں ٹوٹ کر گر گئیں ، اور آتش کدہ فارس بجھ کر ٹھنڈا ہو گیا جو دو ہزار سال سے دہک رہا تھا اور جس کی تیزی و تپش کم تک نہیں ہوتی تھی۔

یہ انقلاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سارے روئے زمین کے باشندوں کے لیے اعلان و انتباہ تھا کہ خاتم الانبیاء والمرسلین کی ولادت باسعادت ہو چکی ہے جو ان بتوں کو پاش پاش کریں گے جن کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا ہو رہی ہے اور جو قیصر و کسریٰ کی عظیم طاقتوں سے ٹکر لیں گے اور ان کو اسلام کی دعوت دیں گے اور اللہ وحدہ کی عبادت کی تبلیغ کریں گے اور جب وہ اس دعوت پر لبیک کہنے سے انکار کریں گے تو یہ آخری نبی ان سے جہاد کریں گے اور ان کے متبعین ان کا ساتھ دیں گے اور آخر کار یہ لوگ ان طاقتوں سے نبرد آزما ہو کر فتح یاب ہوں گے اور اللہ کے دین کو ساری زمین پر پھیلائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے بعد ایسا ہی کیا جیسا کہ اشارہ ہوا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات:

اللہ تعالیٰ نے آپ کو کچھ ایسی خصوصیات سے نوازا ہے جو دوسرے انبیاء و رسل میں نہیں پائی جاتیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:

 ۱ - خاتم الانبیاء ہونا :

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔

۲ - عموم رسالت :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت کے لیے رسول بنا کر مبعوث کئے گئے ہیں اور سارے لوگ امت محمدیہ کہلائے جائیں گے ، جس نے آپ کی اطاعت کی وہ جنتی ہو گا اور جس نے آپ کی نافرمانی کی وہ جہنم رسید ہو گا۔ یہودی اور عیسائی بھی آپ کی مکمل اتباع کے مکلف ہیں، اور جنہوں نے آپ کی پیروی نہ کی اور آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان نہ لائے وہ در حقیقت حضرت موسیٰ و حضرت عیسی اور سارے انبیاء کرام کے منکر ہیں اور یہ سارے انبیاء ان پیرو کاروں سے اپنی براءت کا اظہار کریں گے کیونکہ ان انبیاء کرام نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بشارت دی ہے، اور آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے، اور اس لئے بھی کہ آپ کا دین اسلام سارے انبیاء کرام کا دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت و رسالت کے ذریعہ درجہ کمال کو پہنچا دیا ہے، اس لیے کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد دین اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اپنائے کیونکہ دین اسلام ہی آخری اور مکمل دین شریعت ہے اور تاقیامت محفوظ رہنے والا ہے۔

جہاں تک یہودیت اور عیسائیت کا تعلق ہے تو وہ اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ، بلکہ ان میں غیر معمولی طور پر تحریف و تبدیلی کی جاچکی ہے اس لیے جس نے دین اسلام کی پیروی کی وہ موسیٰ و عیسی اور سارے انبیاء کرام کا متبع ہے، اور جس نے دین اسلام کا انکار کیا وہ موسیٰ و عیسی اور سارے انبیاء کا منکر سمجھا جائے گا، بھلے ہی وہ موسیٰ یا عیسی علیہ السلام کی اتباع کا دعوی کرے ، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں ذی شعور اور انصاف پسند یہودیوں اور عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد آپ پر ایمان لائی اور دین اسلام میں داخل ہوئی

اہم موضوع

اسلامی واقعات (تیسری قسط )

عبادت کی قسمیں