ارکان اسلام
دین اسلام جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں کل پانچ رکنوں پر مشتمل ہے، جن پر ایمان لائے اور ان کے تقاضوں پر عمل کئے بغیر کوئی شخص صحیح طور پر مسلمان نہیں ہو سکتا.
وہ پانچ رکن یہ ہیں:
۱ - اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی
اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
۲ - نماز قائم کرنا۔
٣ - زکوۃ ادا کرنا۔
۴ - رمضان کے روزے رکھنا۔
٥ - استطاعت رکھنے پر حج بیت اللہ کرنا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ہے اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، نماز قائم کرنا زکوۃ ادا کرنا رمضان کے روزے رکھنا اور استطاعت کے وقت حج بیت اللہ کرنا (بخاری و مسلم)"
کلمہ شہادت کے کچھ معانی و مفاہیم ہیں جن کا ہر مسلمان کے لئے جانتا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے اور جو لوگ بغیر سوچے سمجھے اس کو صرف اپنی زبانوں سے دہرا لیتے ہیں اور اس کے معنی سے واقعیت نہیں کھتے اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں وہ صحیح معنوں میں اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔
چنانچہ کلمہ " لا الہ الا اللہ" کے معنی یہ ہیں کہ زمین و آسمان میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود برحق نہیں ہے، اسی کی ذات پاک تن تنا معبود برحق ہے اور اس کے علاوہ سارے معبود باطل ہیں۔
"الہ" کے معنی معبود کے ہیں ، جو شخص غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ کافر اور مشرک ہے، اگرچہ اس کا معبود کوئی نبی یا ولی کیوں نہ ہو اور وہ اس کی عبادت اس دلیل سے کرتا ہو کہ، وہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب اور وسیلہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ وہ مشرکین جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فرمایا وہ بھی انبیاء اور اولیاء کی اسی دلیل سے عبادت کیا کرتے تھے ، لیکن ان کی یہ دلیل باطل اور مردود ہے کیونکہ اللہ تعالٰی سے تقرب اور توسل حاصل کرنے کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی اور کی عبادت کی جائے ، اللہ تعالیٰ کا تقرب اور توسل تو اعمال صالحہ اور اس کے اسماء و صفات کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے جس کا خود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے، جیسے نماز پڑھی جائے، روزے رکھے جائیں ، جہاد کیا جائے، صدقہ و خیرات کیا جائے، حج کیا جائے، والدین کی خدمت کی جائے اور مومن بندہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیر کرے .
اگلے آرٹیکل میں انشااللہ ہر رکن کو علیحدہ علیحدہ تفصیل سے بیان کیا جائے گا.
