ads

حج کا بیان

حج کا بیان

اسلام کا پانچواں رکن حج ہے. یہ فریضہ زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے. اس کے علاوہ جتنی بار کرے تو یہ نفل شمار ہوگا۔

حج کے فوائد:

اول: یہ کہ حج اللہ تعالیٰ کی روحانی اور جسمانی اور مالی عبادت ہے۔

دوم: سارے عالم کے مسلمانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع ہے جو ایک جگہ اور ایک جیسے لباس و پوشاک میں اور اللہ واحد کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں، جہاں امیر و غریب شاہ و گدا کالے و گورے کے فرق کو ختم کر کے بھائی بھائی جیسے ہو کر رہتے ہیں، اور بھی اللہ تعالیٰ کی بندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلمانوں میں تعارف اور ملاقات ہوتی ہے، ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں، پھر باہمی طور پر تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، نیز اس عظیم الشان اجتماع سے میدان حشر کی یاد تازہ ہوتی ہے جہاں سارے لوگ ایک ہی جگہ حساب و کتاب کے لیے جمع ہوں گے ، جس سے ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جذبہ اور داعیہ پیدا ہوتا ہے۔

خانہ کعبہ کے طواف سے جو کہ مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف پنج وقتہ نمازوں میں مسلمان رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں، اور وقوف عرفات سے اور مزدلفہ اور منیٰ کے قیام سے ہمارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی بعینہ اسی طرح عبادت کرنا ہے جیسا کہ اس نے ہمیں حکم فرمایا ہے. اس سے خانه کعبه یا مقامات مقدسہ کی بذات خود عبادت مقصود نہیں کیونکہ نہ تو ان کی عبادت کی جاتی ہے اور نہ ان کے اندر نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیت و طاقت ہے. ہم تو اس اللہ واحد کی عبادت کرتے ہیں جو نفع و نقصان پہنچانے کی تنہا طاقت رکھتا ہے. اگر اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ اور طواف خانہ کعبہ کا حکم نہ دیا ہوتا تو کسی مسلمان کے لیے اس کا طواف اور وہاں کا سفر جائز نہ ہوتا کیونکہ عبادت اپنی رائے و مرضی سے نہیں کی جاتی، بلکہ محض اللہ تعالٰی کے اس حکم کے مطابق ہوتی ہے جو قرآن کریم میں ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ثابت ہے.

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ)

(آل عمران : ۹۷)

"اور لوگوں کے ذمہ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا ہے اس شخص کے ذمہ جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو، اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالی سارے جہاں سے بے نیاز ہے۔"

اور جو بعض جاہل قبروں اور درگاہوں کی زیارت حج کی نیت سے کرتے ہیں وہ سراسر گمراہی اور اللہ اور رسول کی نافرمانی ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

با قاعده سفر کر کے ان تین مسجدوں کے علاوہ کہیں اور نہ جایا کرو مسجد حرام میری مسجد اور مسجد اقصیٰ"

اسی طرح عمرہ ہر مستطیع مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے، چاہے وہ حج کے دوران کرے یا مستقل سفر کر کے کسی وقت چلا جائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی زیارت حج کے دوران یا اس کے علاوہ کسی بھی وقت واجب نہیں، بلکہ وہ ایک مسلمان کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے اور عدم زیارت پر کسی قسم کا کوئی گناہ اور مواخذہ نہیں ہے اور جہاں تک ان مروجہ و مشہور حدیثوں کا تعلق ہے جن میں یہ حدیث بھی ہے. "من حج فلم يزرني فقد جفاتی" جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ تو یہ غیر صحیح اور موضوع حدیث ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی طرف غلط منسوب ہے۔

اسی قبیل سے یہ حدیث ہے " میر جاہ کے وسیلہ سے دعا کرو کیونکہ میری جاہ اللہ کے ہاں بہت بڑی ہے"۔ دوسری جگہ ہے "جس کو کسی پتھر سے بھی حسن ظن ہو جائے تو وہ بھی نفع بخش ہو گا"۔ تو اس طرح کی ساری احادیث موضوع اور صحت سے عاری ہیں اور حدیث کی معتبر کتابوں میں موجود نہیں ہیں بلکہ ان گمراہ گر علماء کی کتابوں میں پائی جاتی جو شرک و بدعت کی دعوت دیتے ہیں۔

البتہ اس سفر کی اجازت ہے جو مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے کیا جائے اور جب کوئی مسجد نبوی پہنچ جائے تو تحیتہ المسجد پڑھ کر فارغ ہو جائے تو اس کے لیے مشروع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس حاضر ہو کر اس طرح صلاۃ و سلام پڑھے ”السلام علیک یا رسول اللہ " اس وقت ادب و احترام کا پورا پاس و لحاظ رکھے آواز پست رکھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال اور کوئی فریاد نہ کرے بلکہ صلاۃ و سلام پڑھ کر وہاں سے ہٹ جائے، اسی طرح آپ نے اپنی امت کو تعلیم دی تھی اور صحابہ کرام نے عمل کر کے دکھایا۔

جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس نماز کی طرح خشوع و خضوع سے کھڑے ہو کر اپنی حاجتوں کو پوری کرنے کی درخواست کرتے ہیں یا آپ سے فریاد چاہتے ہیں یا اللہ کے یہاں آپ کو واسطہ ٹھہراتے ہیں تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بری ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو اس طرح کے اعمال سے چاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ کئے جائیں اجتناب کرنا چاہیے۔

اس کے بعد ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنما کی قبروں کی اور پھر جنت البقیع اور دوسرے شہداء کی قبروں کی مشروع طریقہ سے زیارت کرے وہاں پہنچ کر سلام کرے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرے اور خود بھی عبرت حاصل کرے اور واپس آجائے۔

اہم موضوع