نماز کے متعلق ضروری مسائل
نماز دین اسلام کا ستون ہے. تعلق باللہ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ اس کے بیش بہا فوائد و ثمرات ہیں آنکھوں کی ٹھنڈک اسی میں رکھی گئی ہے، اس کے بغیر مسلمانی کامل نہیں ہوسکتی ، کافر اور مسلمان کے درمیان فرق کرنے والی نماز ہی ہے، اس کے متعلق روزقیامت سب سے پہلے سوال کیا جائے گا،یہ نماز معراج کا عظیم تحفہ ہے، اور آخری وقت تک رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پابندی پر زور دیا ہے،مزید اس کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: بچہ سات سال کا ہو تو اس کو نماز کا حکم دیا جائے اور دس سال کا ہو تو سستی پر سرزنش کی جاۓ، تاکہ بچپن سے ہی اس کے دل دماغ میں نماز رچ بس جائے۔ اگر نماز درست ہوئی تو بقیہ اعمال درست کر دیے جائیں گے. درج ذ یل نماز کے کچھ مسائل کا ذکر ہے، جن کا ہر مسلمان کو معلوم ہونا چا ہیے.
نماز کی شرائط:
اسلام لانا، عقلمند ہونا، بالغ ہونا، طہارت حاصل کرنا، نماز کا وقت داخل ہونا، ستر کو ڈھانپنا، (مرد ناف سے لے کر گھٹنوں تک عورت سارا جسم چھپائے گی ) ،کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا، قبلہ رخ ہونا، نیت کرنا.
نماز کے ارکان:
فرض نماز میں حسب استطاعت قیام کرنا، تکبیر تحریمہ کہنا، سورۂ فاتحہ پڑھنا، ہر رکعت کے لیے رکوع کرنا، رکوع سے اٹھنا، رکوع کے بعد اطمینان سے سیدھے کھڑے ہونا، سات اعضا پر سجدہ کرنا، دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، آخری تشہد میں بیٹھنا، آخری تشہد پڑھنا، اس میں درود ابراہیمی پڑھنا، پہلا سلام پھرنا، تمام ارکان میں اطمینان کرنا، مذکورہ ارکان میں ترتیب کا خیال رکھنا۔
نوٹ: ان ارکان میں سے اگرکوئی رکن چھوٹ جائے ، چاہے عمدا ہو یا سہوا تو رکعت باطل ہوگی۔
نماز کے واجبات:
تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیرات، امام اور منفرد کا سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہ کہنا، رکوع کے بعد ربنا وَلَكَ الْحَمْد کہنا، رکوع میں ایک بار سبحان ربی العظیم کہنا، سجدے میں ایک مرتبہ سبحان ربی الاعلی کہنا، دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا پڑھنا، پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا، پہلا تشہد پڑھنا.
نوٹ: اگر واجبات میں سے کوئی واجب جان بوجھ کر چھوڑ دیا تو نماز باطل ہو جائے گی اگر بھول کر چھوٹ گیا تو اس کے لیے سجدہ سہو کریں گے۔
نمازکی سنتیں:
سنتیں دو قسم کی ہیں: (اقولی سنتیں)،(فعلی سنتیں) ۔ سنت کے چھوٹ جانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اقولی سنتیں:
دعائے استفتاح پڑھنا، تعوذ اور بسم اللہ پڑھنا، سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھنا، آمین کہنا، امام کا جبری نمازوں میں اونچی آواز میں قراءت کرنا، رکوع وسجود میں ایک سے زائد مرتبہ تسبیح پڑھن، سلام سے قبل دعا کرنا،
فعلی سنتیں:
تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع میں جاتے، رکوع سے اٹھتے وقت اور پہلے تشہد سے اٹھنے کے بعد رفع الیدین کرنا، قیام میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھنا، حالت قیام میں نظر سجدہ کی جگہ پر رکھنا، پاؤں کے درمیان فاصلہ رکھنا، سجدہ کرتے وقت زمین پر پہلے دونوں ہاتھ رکھنا پھر گھٹنے رکھنا، حالت سجدہ میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اور پاؤں کو آپس میں ملانا، جلسہ استراحت کرنا یعنی دوسجدوں کے بعد دوسری رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے کچھ دیر بیٹھنا، تشہد اول میں زمین پر بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھنا اورآخری تشہد میں بائیں پاؤں کو دائیں ٹانگ سے نیچے نکال کر زمین پر بیٹھنا، درمیانی انگلی کے ساتھ انگو ٹھے کو لگا کر تشہد والی انگلی سے حرکت دینا، سلام پھرتے وقت دائیں اور بائیں جانب متوجہ ہونا۔
نوٹ: اگر نمازی رکوع وسجود یا قیام میں کمی بیشی کرئے تو سجدہ سہو واجب ہے، اگر کسی رکن وغیرہ میں شک ہو تو بھی سجدہ سہو واجب ہے۔
ہر مسلمان عقلمند اور بالغ پرروزانہ پانچ نمازیں فرض ہیں، نماز با جماعت کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نماز کی تعداد پانچ ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز سے پہلے اور بعد میں کچھ نہ کچھ رکعات پڑھی ہیں جن کا خصوصی اہتمام کیا ہے وہ سنت مؤکدہ کہلاتی ہیں. جن کی تفصیل یہ ہے:
فجرسے پہلے دو سنتیں اور پھر دو فرض، ظہرسے پہلے چارسنتیں، پھر چار فرض اور اس کے بعد دوسنتیں،عصر کے چارفرض، مغرب کے تین فرض اور بعد میں دوسنتیں،عشا کے چار فرض اوردوسنتیں، پھر ایک، تین، پانچ وتر کی نماز پڑھی جائے گی۔
نوٹ: چار رکعات والی سنت نمازدو دوکرکے پڑھی جائیں۔
بیمار آدمی حسب طاقت بیٹھ کر یا کروٹ کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے. اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو لیٹ کر اشاروں سے پڑھ سکتا ہے. پانی نہ ملنے یا وضو کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں تیم کرے.
تیمم کا طریقہ:
پاک مٹی کو ہاتھوں پر لگائے اور پھونک مار کر چہرے اور دونوں ہاتھوں کی پشتوں پر، پہلے دائیں ہاتھ، پھر بائیں ہاتھ کی پشت پر پھیرا جائے، پھر انہی ہاتھوں کو چہرے پرپھیراجائے.
نماز تہجد کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یہی نمازقبرمیں روشنی کا ذریعہ ہوگی. اس کے ساتھ ساتھ تحیۃ المسجد کو خاص اہمیت دی گئی ہے، کہ ہر وہ شخص جو مسجد میں داخل ہواس کو یہ نماز ادا کرنے کے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے۔
قصرنماز:
سفرمیں نماز قصرکرنا مستحب اورافضل عمل ہے. قصرکا مطلب ہے کہ چاررکعات والی نماز دو دورکعات میں پڑھنا اور فجر مغرب میں قصرنہیں.
البتہ سفر کے دوران سنتیں معاف ہیں تاہم عشا کی نماز کے ساتھ وتر پڑھنے چاہیں. سفر کی مسافت، مدت میں اختلاف ہے. مسافت کے باے میں صحیح ترین حدیث صحیح مسلم میں ہے، جس میں تین فرسخ بتلائی گئی ہے جو تقریبا بائیس یا تئیس کلومیٹر بنتا ہے. یہ مسافت اپنے شہر سے نکلنے کے بعد شمار کی جائے گی. دوران سفراورجائے قیام پرنماز قصر ادا کی جائے گی۔ اگر آدمی کی قیام کرنے کی نیت تین دن کی ہوگی تونماز قصر کر سکتا ہے اگر نیت زیادہ دنوں کی ہو تو شروع ہی سے مکمل پڑھے گا۔ البتہ تردد کی صورت میں زیادہ دن نماز قصر کر سکتا ہے.
یہ تھے وو چند ضروری مسائل جن کا ہر مسلمان کو معلوم ہو چا ہیے.
الله ہم سب کو نماز صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق عطا فرماے
امین!
دیگر موضوعات
