ads

رکوع و سجود کی دعائیں

رکوع کی دعائیں



نماز میں قیام کے بعد رکوع ہو گا. رکوع نماز کے فرض ارکان میں سے ہے اور نماز کے دوران میں نمازی کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر جھکنے کو رکوع کہتے ہیں۔

رکوع میں مندرجہ ذیل تسبیحات میں سے کوئی بھی کم از کم تین دفعہ پڑھی جائے.

١-سبحْنَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي

"پاک ہے تو اے الله! ہمارے رب اپنی تعریفوں سمیت ، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔"

صحيح البخاری: ٧٩٤؛ صحیح مسلم: ٤٨٤ (١٠٨٥)

٢-سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ

"پاک ہے رب میرا بزرگ والا"(صحیح مسلم: ٧٧٢ (١٨١٤)

رکوع سے اٹھتے وقت کی دعا:

سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدا كَثِيرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيْهِ (صحيح البخاري: ۷۹۹)

سن لیا اللہ نے جس نے اس کی تعریف کی ، اے ہمارے رب ! اور آپ کے لیے ہی ہے تعریف ، تعریف بہت پاکیزہ با برکت ۔“

رفع الیدین:

رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری: ۷۳۶؛ صحیح مسلم:۳۹۰(۸۲۱

سجدے کی دعائیں:

اسلام میں سجدہ صرف اللہ کو کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی نماز میں ایک رکعت میں دو دفعہ سجدہ کرنا ضروری ہے۔

سجدے میں بھی درج ذیل دونوں یا ایک تسبیح کم از کم تین مرتبہ پڑھیں۔

١-سبحْنَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْنِي

"پاک ہے تو اے اللہ ! ہمارے رب! اپنی تعریفوں سمیت، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔"

(صحيح البخاری: ٧٩٤ ، صحیح مسلم: ٤٤٨ (١٠٨٥)

٢-سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعلى

"پاک ہے رب میرا بہت بلند"

(صحیح مسلم: ٧٧٢(١٨١٤)

دو سجدوں کے درمیان کی دعا:

رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْلِي

السلام 

"اے میرے رب ! مجھے بخش دے، اے میرے رب ! مجھے بخش"

(سنن أبي داود ٨٧٤ سنن النسائی: ١١٤٥، سنن ابن ماجه ۸۹۷)

تشہد کی دعائیں:

التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

"ہر قسم کی قولی عبادات، فعلی عبادات اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور رحمت اللہ کی اور اس کی برکتیں ، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں اقرار کرتا ہوں کہ عبادت لائق کوئی نہیں مگر اللہ اور اقرار کرتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔"

(صحیح البخاری: ۸۳۱، صحیح مسلم: ٤٠٢ (٨٩٧)

درود شریف:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اللَّهُمَّ بَارِك عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

(صحیح البخاری: ۳۳۷۰، صحیح مسلم: (٤٠٦ (٩٠٨)

"اے اللہ ! رحمت نازل فرما ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی آل پر ، جس طرح کہ آپ نے رحمتیں نازل کیں ابراہیم (علیہالسلام) پر اور ابراہیم (علیہالسلام ) کی آل پر، بیشک آپ ہیں تعریف کے لائق ، بزرگی والے۔ اے اللہ ! برکت نازل فرما! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آل پر جس طرح آپ نے برکتیں نازل کیں ابراہیم (علیہالسلام ) پر اور ابراہیم (saw) کی آل پر، بیشک آپ ہیں تعریف کے لائق ، بزرگی والے۔"

آخری تشہد کی دعائیں:

اللهُم إِلى اَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ

الْمَسِيحِ الدَّجَالِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ

"اے اللہ ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے، آپ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، آپ کی پناہ میں آتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، آپ کی پناہ میں آتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے۔ اے اللہ ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔"

صحيح البخاري : 832 و صحیح مسلم: 589 (۱۳۲۵)

اللهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْنِي مَغْفِرَةٌ مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

"اے اللہ ! میں نے ظلم کیے اپنی جان پر ظلم بہت اور نہیں کوئی بخش سکتا گناہ آپ کے سوا ، تو مجھے خاص بخشش سے نواز اپنے ہاں سے اور رحم فرما مجھ پر ، بیشک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔"

(صحيح البخاري : 834؛ صحیح مسلم: (٢٧٠٥؛ (٦٨٦٩)

ان کے علاوہ بھی دعائیں احادیث میں موجود ہیں۔ تشہد اور دعاؤں سے فارغ ہو کر دائیں اور بائیں جانب منہ پھیرتے ہوئے یوں کہے:

سلام:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ

"سلام ہو تم پر اور رحمت اللہ کی ۔"

(سنن أبي داؤد: 996، سنن الترمذی: (٢٩٥)

اب آپ کی نماز مکمّل ہو گئی ہے. نماز کے اندر کی تمام بنیادی ازکار مکمّل ہو گۓ ہیں. انشاللہ آئندہ آپ کو نماز کے بعد کے اذکار بھی بتاۓ جائیں گے.

متعلقہ موضوعات

نماز کا بیان
نماز کا آغاز