اسلامی واقعات (قسط نمبردس)
خدمت خلق کا عجیب واقعہ
یحیی بن عبداللہ اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے اندھیرے میں نکلے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو دیکھ لیا... حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے پھر دوسرے میں ... جب صبح ہوئی تو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں گئے تو دیکھا کہ ایک بوڑھیا بیٹھی ہے انھوں نےاس سے کہا ... وہ آدمی جو تمہارے پاس آتا ہے اس کا کیا کام ہے؟ اس نے جواب دیا وہ تو اتنے عرصہ سے میرے پاس آ رہا ہے .... وہ میرے ہاں میرا کام کرنے آتا ہے.... اور گندی و تکلیف دہ چیزوں کو مجھ سے نکال باہر کرتا ہے ... حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے طلحہ ! تجھے تیری ماں روئے کیا تو عمر کی لغزشیں ڈھونڈتا ہے؟ (۳۱۳ روشن ستارے)
ایک عابد کے ہاتھ پرایک لڑکی کی توبہ
جنید بن محمد کہتے ہیں کہ ابوشعیب برائی پہلے شخص ہیں جو برائی میں مقیم ہوئے وہ ایک کونے میں رہ کر عبادت کیا کرتے ... ایک دن وہاں سے بادشاہوں کے گھروں میں پرورش پانیوالی ایک لڑکی گزری .... اس نے ابو شعیب کو دیکھا تو ان کی حالت اسے پسند آئی... اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ دنیا سے دور ہو کر ابو شعیب کی خدمت میں رہے گی ... اس نے اپنی تمام ملکیت کی چیزیں اتار دیں اور درویشوں کا لباس پہن کر ان کی خدمت میں پھر حاضر ہوگئی.... ابوشعیب نے اس سے نکاح کر لیا ... پھر وہ ابو شعیب کیساتھ کئی سات تک عبادت میں مصروف رہی اور پھر دونوں کا اسی حال میں انتقال
ہوا .... (ماہنامہ " محاسن اسلام“ جنوری 2009ء)
امیر مصر کا خواب
ابوالعباس بکری ناقل ہیں ... کہ محمد بن جریر طبری اور محمد بن خزیمہ اور محمد بن نصر اور محمد بن ہارون رویانی ... یہ چاروں محمد نام ک محد ثین اپنی طالب علمی کے زمانے میں مصر کے اندر مجتمع ہوئے اور چاروں مفلسی اور فاقہ کشی سے مجبور اور لا چار ہو گئے ... ایک دن ان چاروں نے یہ طے کیا کہ قرعہ نکالو... جس کے نام کا قرعہ نکلے وہ خدا سے دعا مانگے چنانچہ جیسے ہی انہوں نے دُعا مانگی... ایک غلام موم بتی لیے ہوئے دروازے پر کھڑ انظر آیا ... اس نے کہا محمد بن نصر کون ہیں؟ لوگوں نے ان کی طرف اشارہ کیا تو اس نے ان کو پچاس دینار کی تھیلی دی... پھر باقی تینوں کو بھی ان کا نام پوچھ پوچھ کر پچاس پچاس دینار کی تھیلی دی اور کہا کہ امیر مصر سور ہا تھا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ چار محمد نام کے طالب علم بھو کے ہیں ... تو اس نے آپ لوگوں کے خرچ کے واسطے یہ تلیاں بھیجی ہیں... میں آپ لوگوں کو قسم دیتا ہوں کہ جب یہ رقم خرچ ہو جائے تو آپ لوگ ضرور ضرور مجھے مطلع فرمائیں۔ (تذکرۃ الفاظ )
فتح خیبر کا واقعہ
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح دیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں .... لوگوں نے وہ رات اسی کشمکش میں گزاری کہ جھنڈا کسے دیا جائے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا علی کہاں ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کی آنکھ میں شکایت ہے... حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں بلاؤ... انہیں لایا گیا تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا اور دعا فرمائی تو ٹھیک ہو گئیں حتی کہ ان میں درد تھا ہی نہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جھنڈا دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان سے لڑتا رہوں حتی کہ وہ ہم جیسے ہو جائیں؟ اورفرمایا تم آہستگی سے چلتے رہوتی کہ ان کے مقابلہ میں پہنچو تو انہیں اسلام کی دعوت نےاسلام میں ان پر اللہ تعالیٰ کے حقوق لازم ہیں ان کی خبر دو... پس اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو ہدایت دے دی تو یہ تیرے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے .....
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جھنڈا دے کر خیبر کے قلعوں کی طرف قتال کے لئے بھیجا آپ لوٹ آئے اور فتح نہ ہوئی حالانکہ آپ نے بہت کوشش کی پھر اس سے اگلے دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انہوں نے لڑائی کی اور لوٹ آئے مگر فتح نہ ہوئی حالانکہ آپنے پوری کوشش کی .... تب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل میں ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں فتح دیں گے وہ بھاگنے والا نہیں ہے... پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کو بلایا تو ان کی آنکھ میں تکلیف تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب ڈالا پھر فرمایا یہ جھنڈا لیکر جاؤ حتی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں فتح دیں گے .... آپ جھنڈا لیکر روانہ ہوئے اللہ کی قسم آپ دوڑ رہے تھے اور میں آپ کے پیچھے آپ کے قدموں کے نشانوں پر جارہا تھا۔ حتی کہ آپ نے جھنڈے کو قلعہ کے نیچے ایک چٹان میں گاڑا تو ایک یہودی نے قلعہ کے اوپر سے آپ کی طرف جھانکا اور کہا تم کون ہو؟ فرمایا علی بن ابی طالب ہوں ... یہودی نے کہا تم غالب ہو گئے تم ہے اس کی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوایا جو اس نے کہا پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نہ لوٹے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں فتح دے دی ... (۳۱۳ روشن ستارے)
